کیا سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد مزید تباہی ہوگی؟ محکمہ موسمیات کی ہولناک پیش گوئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اے پی)

خیبرپختونخوا (کے پی) میں حالیہ سیلاب نے ہونے والی تباہی میں ہلاکتوں کی تعداد 332 تک جا پہنچی جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بالترتیب 12 اور 9 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بونیر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں گزشتہ 48 گھنٹوں میں 208 افراد ہلاک ہوئے۔

 This screengrab of a PDMA report issued on Aug 16, 2025 shows a breakdown of the rain-related incidents across KP and the resulting casualties in the past 48 hours. — PDMA report
This screengrab of a PDMA report issued on Aug 16, 2025 shows a breakdown of the rain-related incidents across KP and the resulting casualties in the past 48 hours. — PDMA report

سیلاب کی تباہ کاریاں

گزشتہ روز شدید بارشوں اور بادلوں کے پھٹنے سے بنیر، شانگلہ، مانسہرہ، سوات، باجوڑ، بٹگرام، لوئر دیر اور ایبٹ آباد سمیت متعدد اضلاع میں سیلاب نے 200 سے زائد جانیں لے لیں۔ بونیر میں 120 افراد زخمی ہوئے اور 50 اب بھی لاپتہ ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق شانگلہ میں 37، مانسہرہ میں 23، سوات میں 22، باجوڑ میں 21، بٹگرام میں 15، لوئر دیر میں 5 اور ایبٹ آباد میں ایک بچے کی موت رپورٹ ہوئی۔

سیلاب نے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ 11 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 63 کو جزوی نقصان پہنچا۔ سوات اور شانگلہ میں تین اسکول متاثر ہوئے۔ مہمند میں ریلیف آپریشن کے دوران صوبائی حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر کریش کر گیا جس میں عملے کے پانچ ارکان ہلاک ہوئے۔

ہنگامی اقدامات اور امدادی سرگرمیاں

کے پی حکومت نے بنیر، باجوڑ، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، تورغر، اپر اور لوئر دیر اور بٹگرام میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے جو 31 اگست تک جاری رہے گی۔ مقامی انتظامیہ کو ریلیف سرگرمیوں کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کو خیموں اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے۔

حکومت نے پی ڈی ایم اے کے لیے ایک ارب روپے اور مواصلات و تعمیرات کے شعبے کیلئے 1.55 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ متاثرہ اضلاع میں شاہراہوں اور پلوں کی بحالی کی جا سکے۔ مزید برآں، متاثرہ خاندانوں کے لیے 500 ملین روپے کی امداد جاری کی گئی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی خدمات کی بحالی کے لیے آپریٹرز کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیا ہے۔ جاز نے کے پی میں تمام صارفین کے لیے مفت آن نیٹ اور پی ٹی سی ایل کالز کا اعلان کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے بھی قومی ایمرجنسی ہیلپ لائن 911 متعارف کرائی ہے، جو مفت خدمات فراہم کرے گی۔

بونیر میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی

وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان عامر مقام، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر حکام نے بنیر میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے بھی بنیر کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے متاثرین کے لیے مکمل معاوضے اور فوری بحالی کے اقدامات کا وعدہ کیا۔

پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور اور مقامی انتظامیہ امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک اور دیگر ضروری اشیا متاثرہ علاقوں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ بنیر پولیس کے مطابق، ضلع میں ہلاکتوں کی تعداد 207 تک پہنچ گئی ہے۔

گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں نقصانات

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں 11 افراد ہلاک، 25 زخمی اور 4 لاپتہ ہوئے۔ 99 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 92 کو جزوی نقصان پہنچا۔ بالتستان ہائی وے پر ایک پل بہہ جانے سے چار اضلاع کا گلگت سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ نلتر ویلی میں سیاح پھنس گئے ہیں جبکہ تین پاور پلانٹس کی بندش سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

وزیراعظم کا عزم

وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت تمام وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی مدد کرے گی۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو فوری امدادی سرگرمیوں کے احکامات دیئے۔

موسم کی تنبیہ

پی ٹی وی نیوز نے تورغر، بٹگرام، شانگلہ، لوئر کوہستان، ٹٹہ پانی، گلگت، ہنزہ اور سوات کی سڑکوں پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ ظاہر کیا ہے۔ شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی گئی ہے۔ کے پی پی ڈی ایم اے کے مطابق، صوبے میں 21 اگست تک بارشیں جاری رہ سکتی ہیں جبکہ بلوچستان میں 18 سے 22 اگست تک مون سون کی ایک نئی لہر متوقع ہے۔

متاثرین کی حالت زار

بشونائی گاؤں کے رہائشی حکیم جان نے بتایا کہ ایلم ویلی میں بادلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب آیا، جس نے دیہات کو تہس نہس کر دیا۔ ایک متاثرہ شخص گل بچہ نے بتایا کہ وہ بمشکل بچ پائے جبکہ بہت سے لوگ بے خبر سیلاب کی زد میں آ گئے۔ مقامی اسکول ٹیچر جاوید خان نے بتایا کہ قریبی علاقوں میں 70 لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں مقامی لوگوں نے دفنایا۔

حکومت اور امدادی ادارے متاثرین کی بحالی کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں لیکن تباہ شدہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام نے امدادی کاموں میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ متاثرین سے یکجہتی کے لیے قومی پرچم گورنر ہاؤس پشاور میں سرنگوں رہا جبکہ صوبائی انتظامیہ نے متاثرین کی فوری امداد اور بحالی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Related Posts