حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے تقریباً 72 ارب روپے وصول کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ رقم مجوزہ ونڈ فال گین ٹیکس کے ذریعے حاصل کیے جانے کا امکان ہے جس پر وزارتِ خزانہ میں غور جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 99Dکے تحت یہ ٹیکس نافذ کر سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان غیر معمولی منافعوں پر ٹیکس عائد کرنا ہے جو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حالیہ علاقائی کشیدگی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران حاصل کیے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو پیٹرولیم سبسڈی میں ریلیف دینے، بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے اور مجموعی مالی خسارہ کم کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم نے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کی نگرانی کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی سربراہی وزیر خزانہ کریں گے۔ یہ کمیٹی مختلف وزارتوں کی کارکردگی، ترقیاتی اخراجات اور توانائی کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لے گی۔
کمیٹی سے یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ وہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے تحت فنڈز کی تقسیم اور ان کے استعمال کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی شرائط کے مطابق یکم جولائی سے اس لیوی میں دوگنا اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ سرکاری اداروں کے رائٹ سائزنگ سے متعلق اصلاحات پر بھی غور جاری ہے، جبکہ تمام وزارتوں کو اپنی کارکردگی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








