خواتین خبردار ہوشیار! رنگ گورا کرنے والی کریمیں آپ کے گردے ناکارہ کر سکتی ہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

دنیا بھر میں رنگت کو خوبصورتی کے معیار کے طور پر مانا جاتا ہے اور اس کا اثر خاص طور پر جنوبی ایشیا میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ رنگ گورا کرنے کی مصنوعات، جیسے فیئرنس کریمیں ایک طویل عرصے سے مقبول ہیں، لیکن اب سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کا استعمال صحت کے لیے سنگین خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔

فیئرنس کریموں کے ذریعے رنگت کو گورا کرنے کی جستجو یا جنون ایک ایسے رویے کی نمائندگی کرتا ہے جو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

سفاک پڑوسی کے ہاتھوں 80 سالہ خاتون جنسی زیادتی کے بعد قتل

رپورٹ کے مطابق رنگ گورا کرنے والی کریموں کا استعمال آج کل معاشرتی دباؤ اور جمالیاتی معیار کے تحت بہت سے افراد کی روزمرہ زندگی کی عادت بن چکا ہے، تاہم اس کے مضر اثرات کو نظر انداز کرنا خطرے سے خالی نہیں۔ حال ہی میں، رائے گڑھ انڈیا سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کو گردے کی بیماری لاحق ہوئی، جسکی تصدیق بعد میں ہوئی کہ رنگ گورا کرنے والی کریم کے باعث وہ اس بیماری کا شکارہوئی تھیں۔

ایک مریضہ 24 سالہ نمیتا شندے، جنہوں نے 8 ماہ سے زائد عرصے تک مقامی ڈاکٹر کی تجویز کردہ ہربل فیئرنس کریم استعمال کی تھی، گردے کی پیچیدہ حالت میں مبتلا ہو گئیں۔ اسی طرح 56 سالہ مسٹر رمیش مورے بھی، جو 3-4 ماہ سے حجام کی تجویز کردہ ہربل فیئرنس کریم استعمال کر رہے تھے، گردے کی سوزش کے شکار ہوئے۔ دونوں مریضوں کا علاج میڈیکور ہسپتال، نوی ممبئی میں کیا گیا۔

ڈاکٹرامیت لنگوٹ، نیفرولوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اور کڈنی ٹرانسپلانٹ ماہر نے کہا کہ دونوں مریضوں میں گردے کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی، اور ان کے خون میں پارے کی سطح بلند پائی گئی۔ ان کی بائیوپسیوں سے پتہ چلایا کہ ان کے جسم میں سوزش، زہریلی دھاتیں اور کینسر سے وابستہ عناصر کی موجودگی تھی، جو غیر مصدقہ رنگ گورا کرنے والی کریموں کے استعمال کی وجہ سے ہوئی تھی۔

ڈاکٹرامیت لنگوٹ نے بتایا کہ اس انکشاف کے بعد، مریضوں کو دوا تجویز کی گئی جس سے ان کے گردے کی حالت میں بہتری آئی اور پیشاب میں پروٹین کی مقدار میں کمی آئی۔ ان دونوں مریضوں کی خوش قسمتی تھی کہ ان کا علاج بروقت ہوا، لیکن بہت سے لوگ متعلقہ اداروں سے غیر منظور شدہ فیئرنس کریموں کے استعمال کے بعد ایسی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔

غیر مصدقہ رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پارے اور دیگر زہریلی دھاتوں کا استعمال عام ہے، جو جلد میں میلانوسائٹس کو دباتی ہیں اور جلد کے رنگت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ کیمیکلز گردے کی صحت کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں اور صارفین کی عمومی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو غیر مصدقہ شدہ رنگ گورا کرنے والی کریموں کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ایسی مصنوعات خریدنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔ ڈاکٹر لنگوٹ نے صارفین کو تنبیہہ کی کہ غیر محفوظ مصنوعات کے استعمال سے گردے کی صحت اور مجموعی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

Related Posts