ویمنز ٹیم کی کھلاڑیوں نے مخالفین کو دھول چٹانے کیلئے لیجنڈز کی ہدایت پلو سے باندھ لیں

تازہ ترین

تازہ ترین

Women’s squad for South Africa tour announced

لاہور :قومی ویمنزٹیم کی کھلاڑیوں نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ماضی کے لیجنڈز اور موجودہ کھلاڑیوں کے ساتھ بات چیت کا موقع فراہم کرنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیجنڈفاسٹ بولر وسیم اکرم اور معروف بلے باز بابر اعظم کے ساتھ ویمنز ٹیم کی کھلاڑیوں کیلئے دو آن لائن سیشنوں کا اہتمام کیا۔

وسیم اکرم اور بابر اعظم نے مختلف حالات میں کھیل کی حکمت عملی بنانے کے طریق کار کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔سیشنوں میں میچ کی تیاریوں سے لے کر فیلڈ حکمت عملی پر عملدرآمد تک وسیع مباحثے شامل تھے،وسیم اکرم اور بابر اعظم نے سخت محنت اور فٹنس کی اہمیت پر زور دیا ۔

پاکستان خواتین کی ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے ویڈیو سیشنز کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ بہت اہم ہے کہ کھلاڑی اس وقت کھیلوں کی معطلی کے دورانیہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لیجنڈز کے ساتھ تربیتی سیشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم نے ویمنز ٹیم کو اپنی صلاحیتیوں کے بہتر استعمال اور مختلف حالات میں خود کو ٹیم کیلئے کارآمد بنانے کیلئے مفید مشورے دیئے ہیں جن سے قومی ٹیم کی خواتین کو بہت فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں میں وسیم اکرم اور بابر اعظم کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے سیکھنے کے اس عمل کے لئے ہمارے لئے اور پی سی بی کے لئے اپنا وقت نکالا ۔

فاسٹ بولرایمن انور نے کہاکہ میں پی سی بی کا شکر گزار ہوں کہ وسیم اکرم کے ساتھ ہمارا سیشن مرتب کیا جن سے میں ہمیشہ سیکھنے کی خواہشمند رہی ہوں۔

ایمن انور نے کہا کہ وسیم اکرم نے بولنگ کے بارے میں کچھ انمول تجاویز فراہم کیں اور ہمیں بلے باز کے دماغ کو پڑھنے کے فن کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے اپنے کھیل کے دنوں کے تجربات شیئر کیے جس سے مجھے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ مجھے امید ہے کہ ان کے ساتھ میری بات چیت سے مجھے ایک کامیاب باؤلر بننے میں مدد ملے گی۔

فاسٹ بولر ڈیانا بیگ نے کہاکہ وسیم اکرم کے ساتھ سیشن بہت متاثر کن تھا۔ انہوں نے مختلف حالات میں بولنگ کرنے کے بارے میں بات کی۔

مزید پڑھیں:نبین ۔۔ کھانا پکانے سے خواتین کو مضبوط و مستحکم بنانے کی راہ پر گامزن

اوپنر منیبہ علی نے کہاکہ بابر اعظم کے ساتھ ہمارا سیشن میرے لئے فائدہ مند ثابت ہوا۔ اس سیشن نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد فراہم کی کہ دباؤ کی صورتحال میں عالمی نمبر ایک بیٹسمین کس طرح بیٹنگ کرتا ہے۔

Related Posts