عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ فوری اقدامات نہ کرنے کی صورت میں رواں برس کے آخر تک دنیا کی 50فیصد سے زائد آبادی خسرہ سے متاثر ہوسکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کی سینئر مشیر نتاشا کروکرافٹ نے جنیوا میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ کئی ممالک میں رواں برس لوگوں نے خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے نہیں لگوائے۔ اگر ان علاقوں میں جلد ویکسین نہ پہنچی تو خسرہ پھیلنے کا خدشہ ہے۔
سینئر مشیر نتاشا کروکرافٹ نے مزید کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے اعدادوشمار کا استعمال کرکے امریکی سنٹر برائے تحفظِ صحت نے تجزیہ کیا جس سے پتہ چلا ہے کہ رواں برس کے آخر تک دنیا کے 50 فیصد سے زائد ممالک کو خسرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
نتاشا کروکرافٹ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری بچوں کی حفظانِ صحت یقینی بنانے کیلئے فوری طورپر اقدامات اٹھائے۔ دنیا میں معاشی بحران، تنازعات اور جنگوں کے باعث بین الاقوامی رہنما خسرے جیسے مسئلے کی جانب کم توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔
خیال رہے کہ خسرہ بہت تیزی سے پھیلنے والی وائرل بیماری ہے جو کسی متاثرہ شخص کے سانس لینے، کھانسنے یا چھینکنے سے پھیلتی ہے۔ خسرہ سے متاثر شخص کو بخار، نزلہ زکام اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں۔ پورے جسم میں دانے پھیل جاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








