دنیا بھر میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے منایا جا رہا ہے اور پاکستان میں اس موقع کو خاص اہمیت حاصل ہے جہاں یہ دن ایک طرف صحافیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے تو دوسری جانب آزادی صحافت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
آئین کے مطابق صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ شعبہ کسی دئیے گئے حق کے طور پر نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آزادی کے طور پر موجود ہے جس میں صحافیوں نے قید و بند، تشدد اور دباؤ جیسے سخت حالات کا سامنا کیا ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں صحافیوں اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کی حفاظت اور آزادی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور 2024 کے مقابلے میں خلاف ورزیوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نومبر 2024 سے ستمبر 2025 کے دوران کم از کم 142 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں تشدد، اغوا اور ڈیجیٹل سطح پر منظم دباؤ شامل تھا۔
گزشتہ چند برسوں میں حکومتی سطح پر مختلف پابندیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں ملک بھر میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پابندی، 27 یوٹیوب چینلز کی بندش اور بار بار انٹرنیٹ سروس کی معطلی شامل ہیں جس نے اظہارِ رائے کیلئے ماحول کو مزید محدود کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ قانونی اقدامات بھی آزادی صحافت پر دباؤ کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ 2025 کے آغاز میں پیکا (PECA) قانون میں ترامیم کے بعد اس کی سخت سزاؤں میں اضافہ کیا گیا تاہم یہ ترامیم اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کی گئیں۔ مختلف اداروں کے مطابق اس قانون کو اب صحافیوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ حکومتی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات پر کوئی واضح احتساب نظر نہیں آتا۔
موجودہ وفاقی حکومت کے پہلے سال میں پیکا کے تحت 30 میڈیا شخصیات کے خلاف 36 مقدمات درج کیے گئے جبکہ جنوری 2026 میں اسلام آباد کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈیجیٹل ٹیررازم کے الزام میں سات اہم شخصیات کو عمر قید کی سزا سنائی۔
اس دن کے موقع پر میڈیا برادری کا پیغام واضح ہے کہ صحافت کوئی جرم نہیں اور آج جو آزادی موجود ہے وہ کمزور ہے اور اسے برقرار رکھنے کیلئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے کیونکہ بڑھتے ہوئے قانونی اور جسمانی دباؤ کے باعث اظہارِ رائے کی آزادی مسلسل خطرے میں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








