ہنوئی :ایشیا بحر الکاہل کے 15ممالک نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کردیئے،بھارت کو شامل نہیں کیا گیا، امریکا نے چینی اثر و رسو خ بڑھنے پرشدید تشویش کا اظہار کردیا۔
علاقائی جامع معاشی شراکت داری میں چین ، جاپان ، جنوبی کوریا ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ 10 جنوب مشرقی ایشین معیشتیں شامل ہیں اور یہ ممبران عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 30 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔
آر سی ای پی معاہدے پر ورچوئل دستخط کے بعد چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تحت حقیقت یہ ہے کہ آٹھ سالوں کے مذاکرات کے بعد آر سی ای پی پر دستخط ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کہ کثیر جہتی ایک درست راستہ ہے اور عالمی معیشت اور انسانیت کی ترقی کی صحیح سمت کی نمائندگی کرتا ہے۔
اشیاء کے نرخوں کو کم کرنے اور بلاک کے اندر تجارت کو کھولنے کے معاہدے میں امریکا شامل نہیں ہے، امریکا نے چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا ہے دوسری جانب انڈونیشیا دو دہائیوں سے کساد بازاری کا سامنا ہے جبکہ آخری سہ ماہی میں فلپائن کی معیشت سالانہ گیارہ اعشاریہ دو فیصد کم ہوگئی۔
سنگاپور میں مقیم ایشین ٹریڈ سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیبورا ایلمس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس نے واضح کردیا ہے کہ تجارتی معاملات اور حکومتیں پہلے سے کہیں زیادہ مثبت معاشی نمو کی خواہاں کیوں ہیں۔