سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے پاکستان کی کئی درخواستیں مسترد دکرتے ہوئے ریاست مخالف مواد ہٹانے سے انکار کردیا ہے جبکہ یہ انکشاف ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔
تفصیلات کے مطابق ایکس بندش کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل ضیاء الحق مخدوم نے رپورٹ جمع کرادی جس میں بتایا گیا ہے کہ ایکس نے پاکستان کی طرف سے مواد ہٹانے کی درخواستیں مسترد کردیں۔ ایکس کی ٹیم نے جواب دیا کہ یہ مواد ہماری پالیسیوں کے خلاف نہیں ہے۔ مقدمے کی سماعت چیف جسٹس سنعدھ ہائیکورت محمد شفیع صدیقی نے کی۔
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی قیادت میں عدالتِ عالیہ کے دو رکنی بینچ میں جسٹس جواد اکبر سروانہ بھی شامل تھے۔ بینچ نے ایکس پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت۔ سول سوسائٹی اراکین نے الیکشن سے قبل اور اس کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور انٹرنیٹ سروس معطلی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل ضیاء الحق مخدوم نے عدالتی حکم پر رپورٹ پیش کی جس میں حکومت کی جانب سے دائر درخواستوں اور منظور کی گئی درخواستوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔۔ عدالت کے دو رکنی بینچ نے رپورٹ اور مختلف فریقین کے یبانات کو ریکارڈ میں شامل کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ دستاویزات معاملات کی فیصلہ سازی کیلئے اہم ہیں۔
ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی جزوی سماعت میں درخواست گزار کے وکیل عبدالمعیز جعفری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سماعت 17اکتوبر تک کیلئے ملتوی کردی اور ہدایت کی کہ اس وقت تک گزشتہ سماعتوں کے دوران منظور کردہ عبوری احکامات برقرار رکھے جائیں۔ ابتدائی عبوری حکم میں عدالت نے حکام کو انٹرنیٹ سروس اور ایکس تک رسائی بحالی کی ہدایت کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








