یمن کی مشہور ماڈل انتصار الحمادی حوثی باغیوں کی قید سے آزاد، پانچ سال اذیتوں کے بعد اب حالت کیسی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Yemen rebels release model after nearly 5 years in prison
ONLINE

صنعا: یمن کی مشہور ماڈل انتصار الحمادی کو حوثی باغیوں نے تقریباً پانچ سال قید میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا، ان کے وکیل اور ایک سیکورٹی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ انتصار کو گزشتہ روز شام رہا کیا گیا اور وہ اس وقت اپنے گھر پہنچ چکی ہیں۔

انتصار الحمادی جن کی عمر اب 23 سال ہے، فروری 2021 میں صنعا سے ایک فوٹو شوٹ کے لیے جاتے ہوئے گرفتار کی گئی تھیں۔

بعد ازاں حوثی عدالت نے انہیں بدکاری، منشیات کے استعمال اور جسم فروشی کے الزامات پر پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم ان کے وکیل اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور خواتین کی آزادی پر حملہ قرار دیا تھا۔

ان کے وکیل خالد الکمال کے مطابق انتصار الحمادی نے دورانِ قید متعدد بیماریوں اور اذیتوں کا سامنا کیا، ان کی حالت ناگفتہ بہ ہو چکی تھی۔حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے مطابق 2021 میں انتصار نے جیل میں خودکشی کی کوشش بھی کی تھی۔

ان کی ماں ایتھوپین اور والد یمنی ہیں، اور انتصار الحمادی نے اپنی شہرت ماڈلنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل کی۔ وہ روایتی لباس، جینز اور جیکٹ میں اپنی تصاویر شیئر کرتی تھیں کبھی حجاب کے ساتھ اور کبھی بغیر حجاب کے تصاویر بناتی تھیں۔

 

ان کے انسٹاگرام اور فیس بک پر ہزاروں فالوورز ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق وہ چار سال سے ماڈلنگ کر رہی تھیں اور دو یمنی ٹی وی سیریز میں بھی کام کر چکی تھیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد ان پر تشدد کیا گیا، نسلی گالیاں دی گئیں، آنکھوں پر پٹی باندھ کر تفتیش کی گئی، اور جھوٹے اعترافات پر مجبور کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2014 میں یمن میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد حوثی کنٹرول والے علاقوں میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار ہوتا ہے۔

Related Posts