ملک میں کیلنڈر کے مطابق تو موسم بہار کا آغاز ہوچکا ہے، مگر حقیقت میں دیکھا جائے تو دور دور تک بہار کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وقت نے چلتے چلتے اچانک چند قدم پیچھے ہٹاکر ماحول کو دسمبر کے جاڑوں میں دھکیل دیا ہے۔
مارچ کیلنڈر کے حساب سے اس خطے میں بہار کے آغاز کا عنوان ہوتا ہے، تاہم اس بار ایسا لگتا ہے کہ خزاں کے بعد پھر سے خزاں اور خشک سردیاں چپکے سے واپس آدھمکی ہیں، چنانچہ پورا خطہ ہی شدید بارشوں، برفباری اور سردی کے پلٹ کر کیے جانے والے وار کی لپیٹ میں ہے۔
طوفانی بارشوں کے نتیجے میں تقریبا ہر سال ہی ملک بھر میں تباہ کن سیلاب کے “نظارے” دیکھنے کو ملتے ہیں، تاہم “برف کا سیلاب” بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے، یہاں تک کہ جن علاقوں میں برفباری ہوتی ہے، وہاں کے باسی بھی کبھی کبھار ہی “برف کے سیلاب” کا مشاہدہ کر پاتے ہیں۔
آپ نے بھی اگر کبھی “برف کا سیلاب” نہیں دیکھا، تو آئیے ہم آپ کو دکھاتے ہیں۔ “برف کے سیلاب” کو رواں دواں دیکھئے اور قدرت کے اس خوبصورت مظہر سے لطف اندوز ہوجائیے۔
سوشل میڈیا کی معروف ویب سائٹ فیس بک پر گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ نگر کی ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں ایک پہاڑی وادی میں برف کے دلکش سیلاب کو بہتے دیکھا جاسکتا ہے۔
“برف کا سیلاب” ہم جس منظر کو کہہ رہے ہیں، جسے آپ نے دیے گئے لنک پر موجود ویڈیو میں ملاحظہ کرلیا ہے، یہ دراصل برفانی تودہ ہے۔ آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ برفانی تودہ گرنے سے یہ نقصان ہوا اور وہ نقصان ہوا۔
برفانی تودے گرنے کا یہ عمل دراصل ایک بہتے سیلاب کی شکل میں سامنے آتا ہے، برف کے یہ سیلاب عموماً پہاڑی وادیوں میں بہتے اور گرتے ہی رہتے ہیں، تاہم یہ کیمرے کی آنکھ اور انسانی مشاہدے میں تب ہی آتے ہیں، جب یہ سڑکوں اور آبادیوں کا رخ کریں اور ایسا اتفاق کم ہی ہوتا ہے۔
برفانی تودوں سے جانی نقصانات کا احتمال عموماً اسی وقت ہوتا ہے جب یہ اچانک پہاڑ پر سے ہوتے ہوئے سڑکوں اور آبادی کا رخ کریں اور ان کی زد میں گاڑیاں، گھر، املاک اور لوگ آجائیں۔
برفانی تودے پانی ذخیرہ کرنے کا قدرتی بندوبست ہوتے ہیں، پہاڑوں کی چوٹیوں اور دامن میں برف زیادہ دیر جمی نہیں رہ پاتی۔ دھوپ پڑتے ہیں برف پگھلنا شروع ہوجاتی ہے، مگر یہ برف پگھلتے گرتے تودوں کی شکل میں سیلاب بن کر وادیوں کا رخ کرتی ہے تو عموما ایسے مقام پر جمع ہوجاتی ہے جہاں کئی مہینے تک سورج کی روشنی نہیں پڑتی۔
چنانچہ یہ تودے سورج کی کرنوں سے اوجھل مقامات پر گر کر طویل عرصے تک پانی کی اسٹوریج کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








