کیرالہ کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ پالکاد کے سابق کانگریس ایم ایل اے راہل مامکوٹاتھل کو ریپ کے الزام گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے انہیں پالکاد کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا اور اب وہ 3 دن کی پولیس حراست میں ہیں۔ کانگریس نے پہلے ہی انہیں پارٹی سے خارج کر دیا تھا اور اس نئے مقدمے کے بعد ان کی سیاسی زندگی بھی شدید خطرے میں آ گئی ہے۔
الزامات کیا ہیں؟
راہل مامکوٹاتھل پر تین مختلف خواتین کی جانب سے ریپ، جبری اسقاط حمل، مالی استحصال اور دھوکہ دہی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات 2025 کے آخر سے سامنے آئے اور تیسرا مقدمہ ان کی گرفتاری کی بنیاد بنا۔
تفصیل:
پہلا مقدمہ (نومبر 2025): ایک شادی شدہ خاتون نے الزام لگایا کہ راہل نے ان کے ساتھ ریپ کیا اور جبری اسقاط حمل کروایا۔ یہ کیس نیموم تھانے میں درج ہوا۔
دوسرا مقدمہ (دسمبر 2025): 23 سالہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ راہل نے شادی کا وعدہ کرکے انہیں ہوم اسٹے پر ریپ کیا۔
تیسرا مقدمہ (جنوری 2026): پٹھانمتھٹا کی ایک خاتون (جو فی الحال کینیڈا میں ملازمت کر رہی ہیں) نے ای میل کے ذریعے شکایت درج کروائی۔
الزامات کے مطابق سوشل میڈیا پر رابطہ کیا گیا جب خاتون شادی کے مسائل سے دوچار تھیں۔ راہل نے شادی کا وعدہ کرکے رشتہ بنایا اور بچہ پیدا کرنے پر زور دیا تاکہ خاندان کی منظوری حاصل کی جا سکے۔
عوامی جگہ پر ملاقات سے انکار کرتے ہوئے پالکاد کے ہوٹل میں کمرہ بک کروایا۔ وہاں پہنچ کر خاتون کے ساتھ ریپ، جسمانی اور زبانی تشدد کیا۔ حاملہ ہونے پر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سیمپل دینے سے انکار کیا۔
مالی استحصال بھی کیا جیسے یوتھ کانگریس کے فنڈ میں 5000 روپے کا لاٹری ٹکٹ خریدوانا اور جیتنے کا وعدہ کرنا۔ خاتون نے اپنی شکایت کے ساتھ آڈیو، چیٹس اور دیگر ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔
کانگریس کا ردعمل
کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ راہل کو اگست 2025 میں پارٹی سے معطل اور دسمبر میں مکمل طور پر خارج کر دیا گیا تھا۔ پارٹی نے واضح کیا کہ اب ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔
اپوزیشن: سی پی آئی (ایم) اور بی جے پی نے کانگریس پر الزام لگایا کہ پارٹی ایسے افراد کو تحفظ فراہم کر رہی تھی۔
راہل مامکوٹاتھل کون ہیں؟
36 سالہ راہل مامکوٹاتھل کیرالہ یوتھ کانگریس کے سابق صدر ہیں اور کانگریس کے نوجوان لیڈر کے طور پر معروف تھے۔ 2025 میں متعدد خواتین کی جانب سے الزامات سامنے آنے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دیا اور پارٹی سے معطل ہو گئے۔ اب ان کی ایم ایل اے کی نشست بھی خطرے میں ہے اور اسمبلی اسپیکر قانونی رائے لے رہے ہیں کہ آیا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔
یہ کیس کیرالہ کی سیاست میں اخلاقیات اور احتساب کے بڑے مسائل میں شامل ہو چکا ہے۔ تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات کی توقع ہے جو خواتین کے حقوق اور سیاسی طاقت کے غلط استعمال کے خلاف ایک اہم مثال بن سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








