یوٹیوب نے بالآخر اپنا نیا فیچر ملٹی لینگوئج آڈیو ڈبنگ باضابطہ طور پر تمام ویڈیو کریئیٹرز کے لیے لانچ کردیا ہے۔ یہ فیچر تخلیق کاروں کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ اپنی ویڈیوز میں مختلف زبانوں کے آڈیو ٹریک شامل کرسکیں تاکہ دنیا بھر کے ناظرین ان کی ویڈیوز اپنی پسندیدہ زبان میں سن سکیں۔
یہ فیچر تقریباً دو سال کے آزمائشی مرحلے کے بعد عام صارفین کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ 2023 میں اس کی ابتدائی آزمائش مشہور یوٹیوبرز جیسے MrBeast، مارک روبر اور جیمی اولیور کے ساتھ کی گئی تھی جس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا نکلے۔ اس سے ویوز مشاہدہ اور عالمی سطح پر رسائی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
یوٹیوب کے ناطرین اب ویڈیو سیٹنگز میں جا کر اپنی پسند کی زبان منتخب کرسکیں گے جس سے مختلف زبانوں میں مواد دیکھنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔
یہ فیچر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں اے آئی کی مدد سے مواد کو مقامی سطح پر ڈھالنے (localization) کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں میٹا نے Reels کے لیے اے آئی آڈیو ڈبنگ اور لب سنکنگ کی سہولت دی ہے جبکہ گوگل نے Google Meet میں Gemini AI کے ذریعے رواں ترجمے (real-time translation) کی سہولت متعارف کرائی ہے۔
انگریزی زبان بولنے والے ممالک میں یوٹیوب کی نمو سست ہونے کے بعد کمپنی کی یہ نئی حکمتِ عملی واضح طور پر عالمی ناظرین تک رسائی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے تخلیق کار بغیر ویڈیوز کو دوبارہ بنانے کے مختلف زبانوں میں اپنا پیغام پہنچا سکیں گے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ حال ہی میں یوٹیوب شارٹس (YouTube Shorts) نے بھی جنریٹیو اے آئی پر مبنی کئی نئے ٹولز متعارف کروائے ہیں جن میں ایک ایسا فیچر شامل ہے جو کہ صارف کی تصاویر کو چھ سیکنڈ کے متحرک کلپ میں بدل دیتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








