کراچی: یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدرزبیرطفیل، فیڈریشن چیمبرآف کامرس کے انتخابات 2021 میں یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدارتی امیدوار خالد تواب اوردیگر تاجررہنمائوں نے دسمبر2020میں ایف پی سی سی آئی میں ہونے والے انتخابات میں متنازعہ نتائج کی وجہ سے موجودہ صدر کے خلاف فیصلے دینے میں تاخری حربے استعمال کرنے پر وزارت تجارت کے ماتحت ادارے ڈائریکٹر ٹریڈ آرگنائزیشن پر تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب ایف پی سی سی آئی کے متنازعہ صدر ناصرحیات مگوں کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ سے لئے گئے حکیم امتناعی کیلئے دائرکردہ درخواست کو سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے مسترد کردیا گیا اور عدالت نے ڈی جی ٹی او کو حکم دیا کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کون صدارتی منصب پر کامیاب ہے لیکن ڈی جی ٹی او تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں اور فیڈریشن پر قابض گروپ کے زیر اثر ہیں۔
کراچی پریس کلب میں مرزا اختیار بیگ، حنیف گوہر،ممتاز احمد،شکیل ڈھینگڑا،سلمان اسلم،اکرام راجپوت،مریم چوہدری اوردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو بی جی کی جانب سے صدارتی امیدوار خالدتواب نے کہا کہ 30دسمبر2020ء کو ایف پی سی سی آئی کے انتخابات ہوئے،میرے 178 جبکہ مخالف امیدوارناصر حیات مگوں کے 177ووٹ تھےجبکہ ڈی جی ٹی او نے سندھ ہائیکورٹ میں خود لکھ کر دیا ہے کہ لورالائی چیمبرکے2 اور افغان چیمبر کا ایک ووٹ غلط کاسٹ کئے گئے اوران دونوں چیمبرز کو ڈائریکٹر جنرل ٹریڈآرگنائزیشن نے 16دسمبر2020ء کو غیر قانونی قرار دیا تھا لیکن ایف پی سی سی آئی کے الیکشن کمیشن نے ان تینوں ووٹوں کو میرے مخالف امیدوار کے حق میں شامل کردیا ۔
خالدتواب نے کہا کہ پہلے الیکشن کمیشن نے ہمارے علم میں لائے بغیر 178/178 ووٹوں سے الیکشن ٹائی کیا اور سیکریٹری جنرل کے دستخط سے رزلٹ ٹائی ہونے کا اعلان کیا گیامگر حیرت انگیز طور پر ناصرحیات مگوں کو ایک ووٹ سے فاتح قرار دیدیا گیا،ہم نے ڈی جی ٹی او اسلام آباد میں کیس کی سماعت میں تمام حقائق پیش کئے لیکن واضح طور پر یہ محسوس ہورہا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشن پر سیاسی اور غیر سیاسی بہت پریشر ہے اوراسی سبب ڈی جی ٹی او فیصلے کرنے میں تاخیر کررہا ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ ہم اسلام آباد میں مشیر تجارت عبدالرزاق دائودسے اوربعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے انہیں حقائق سے آگاہ کریں ۔یو بی جی زبیرطفیل نے کہا کہ ڈائریکٹرجنرل ٹریڈ آرگنائزیشن مسترد شدہ ووٹوں کو خارج کرکے خالد تواب کے صدر ایف پی سی سی آئی کا اعلان کرے،ہم فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور اِس کے بعدیوبی جی کی درخواست پر ہونے والی کاروائی اور سندھ ہائیکورٹ میں بزنس مین پینل کے کیس کو مسترد کرنے کے متعلق تمام حقائق سے وزیراعظم اور مشیر تجارت کو آگاہ کر یں گے۔
انہوں نے کہا کہ تعصب زدہ الیکشن کمیشن نے افغان چیمبر آف کامرس کا لفافے میں بند مسترد ووٹ کو ریگولیٹر کے علم میں لائے بغیر غیر قانونی طریقے سے کھول کر ناصر حیات مگوں کے حق میں شامل کیا جس کے بعد دونوں امیدواروں کے 178/178 ووٹوں سے صدر کا فیصلہ ’’ٹائی‘‘ ہونے کا اعلان سنایا اور دونوں امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں الیکشن کمیشن اور فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل کی دستخط شدہ پروویژنل رزلٹ سمر ی 30 دسمبر 2020کو جاری کی گئی ۔
زبیرطفیل نے کہا کہ یو بی جی کی قیادت نے مجھے اتفاق رائے سے صدر منتخب کیا ہے اور میرا مشن ہے کہ ہم اجتماعی جدوجہد سے ایف پی سی سی آئی کے انتخابات برائے2022 کا الیکشن بھرپور انداز میں جیتیں گے۔
اختیار بیگ اورحنیف گوہرنے کہا کہ ڈی جی ٹی او اسلام آباد میں کیس کی سماعت کے دوران ہم نے یہ تمام حقائق اور دستاویزی ثبوت پیش کئے جس کی بنیاد پر ڈی جی ٹی او نے معزز سندھ ہائیکورٹ کو اپنے تحریری جواب میں واضح طور پر لکھا کہ لورالائی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور پاک افغان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈالے گئے ووٹ غلط ہیں لیکن معاملے کو طول دینے کیلئے ڈی جی ٹی او کے فیصلے سے پہلے بزنس مین پینل نے ریگولیٹر کی کارروائی پر عدم اعتماد کرتے ہوئے 19 مارچ 2021ء کو سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لے کر ڈی جی ٹی او میں ہماری کارروائی کو روک دیا ۔
حال ہی میں 19 مئی کو سندھ ہائیکورٹ نے بزنس مین پینل کے کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا جو دراصل ناصر حیات مگوں کی غیر قانونی صدارتی مدت کو طول دینے کیلئے کیا گیا تھا۔ ان حقائق کی بنیاد پر ڈی جی ٹی او سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ پہلے ہی منسوخ قرار دے چکے ہیں کو مسترد کرکے خالد تواب کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا 2021ء کیلئے صدر کا اعلان کرے۔