دنیا کے مقبول ترین ٹک ٹاکر کھابے لیم نے رہائی کے بعد امریکا چھوڑ دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

دنیا کے مقبول ترین ٹک ٹاکر کھابے لیم نے رہائی کے بعد امریکا چھوڑ دیا
ONLINE/ FILE PHOTO

دنیا بھر میں شہرت پانے والے معروف ٹک ٹاکر کھابے لیم کو امریکی حکام نے ویزے کی مدت ختم ہونے پر حراست میں لیا جس کے بعد وہ رضاکارانہ طور پر امریکا سے رخصت ہو گئے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں مقیم کھابے لیم کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب ان کا امریکی ویزا زائد المیعاد ہو چکا تھا۔

امریکی امیگریشن و کسٹمز کے ترجمان کے مطابق انہیں ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لینے کے بعد ملک بدری کا باقاعدہ حکم دیے بغیر رضاکارانہ واپسی کی اجازت دی گئی۔

کھابے لیم نے 30 اپریل کو امریکا کا دورہ کیا تھا لیکن مقررہ ویزا مدت سے زیادہ قیام پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔

ذرائع کے مطابق ایسوسی ایٹڈ پریس نے ای میل کے ذریعے ان سے موقف لینے کی کوشش کی لیکن تاحال انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

کھابے لیم کی گرفتاری اور ملک سے واپسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ریاست کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں جاری حکومتی کریک ڈاؤن نے عوامی ردعمل کو جنم دیا جہاں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر آ کر حکومت کی امیگریشن پالیسی کے خلاف مظاہرے کیے، جو بعد ازاں پُرتشدد رخ اختیار کر گئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے دونوں ریاستوں میں نیشنل گارڈز تعینات کیے جا چکے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگر کوئی غیرملکی شہری رضاکارانہ طور پر امریکا سے روانہ ہوتا ہے تو وہ آئندہ قانونی ویزے کے ذریعے دوبارہ داخلے کی درخواست دے سکتا ہے جبکہ زبردستی ملک بدری کی صورت میں 10 سال تک امریکہ میں داخلہ ممنوع ہو جاتا ہے۔

افریقی ملک سینیگال میں پیدا ہونے والے 25 سالہ کھابے لیم نے بعد ازاں اٹلی کی شہریت حاصل کی۔ عالمی شہرت انہیں اُس وقت ملی جب کورونا وبا کے دوران انہوں نے بنا کچھ کہے، صرف تاثرات کے ذریعے مختصر اور مزاحیہ ویڈیوز بنائیں، جو عوام میں بے حد مقبول ہوئیں۔ ان کے ٹک ٹاک فالوورز کی تعداد 162 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔

2022 میں انہوں نے ڈیزائنر برانڈ ہیوگو باس کے ساتھ طویل مدتی معاہدہ کیا اور یونیسیف نے رواں برس جنوری میں انہیں اپنا خیرسگالی سفیر مقرر کیا۔ پچھلے مہینے وہ امریکا آمد کے چند روز بعد نیویارک میں ہونے والے میٹ گالا میں بھی شریک ہوئے تھے۔

Related Posts