ہماری کائنات میں زمین ہی اب تک دریافت کیا گیا وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی پائی جاتی ہے اور زندگی کی بنیادی ضروریات میں کھانا، پانی اور سانس بنیادی ضروریات ہیں جبکہ سانس لینے کیلئے جو آکسیجن ضروری ہوتی ہے وہ درخت پیدا نہیں کرتے۔
جی ہاں۔ بنیادی سائنسی علم، خاص طور پر حیاتیات یہ سکھاتی ہے کہ آکسیجن درخت اور پودے پیدا کرتے ہیں، لیکن زمین پر جو آکسیجن موجود ہے جس سے ہم سانس لیتے ہیں، اس کا 50 سے 80فیصد خشکی کے درخت اور پودے نہیں بلکہ سمندری الجی، کائی اور دیگر سمندری پودے پیدا کرتے ہیں، درخت نہیں۔اور یہ وہ پہلی سائنسی حقیقت ہے جو یہاں بیان کی گئی۔
دی گریٹ پلانٹ کی تحقیق کے مطابق دوسری دلچسپ سائنسی حقیقت یہ ہے کہ زمین کی سطح کی سب سے گہری سمندری کھائی جسے ماریانہ ٹرینچ کہا جاتا ہے، اتنی گہری ہے کہ اگر دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو اس میں ڈبو دیا جائے تو ماؤنٹ ایوریسٹ ماریانہ ٹرینچ کے پانی میں 2 کلومیٹر تک نیچے ڈوبی ہوئی ملے گی کیونکہ ماؤنٹ ایوریسٹ کی اونچائی تقریباً 8ہزار848 میٹر جبکہ ماریانہ ٹرینچ کی گہرائی تقریباً 11 ہزار میٹر ہے۔
تیسری سائنسی حقیقت یہ ہے کہ نظامِ شمسی میں سورج کو سب سے زیادہ گرم سمجھا جاتا ہے، جس کی سطح کا درجہ حرارت 6ہزار ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، حالانکہ زمین کے مرکز میں موجود سب سے زیادہ گہرائی میں پائی جانے والی پرت کا درجہ حرارت بھی 10ہزار800فارن ہائٹ یعنی 6ہزار ڈگری کے لگ بھگ ہی رہتا ہے۔
چوتھی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ ایک اوسط درجے کا روئی جیسا نظر آنے والا سفید بادل جسے ہم آسمان پر بہت دھیمی رفتار سے لیکن بڑی آسانی سے اڑتا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہوا دیکھتے ہیں، اس کا وزن کم و بیش 11لاکھ پاؤنڈ ہوتا ہے جو 100 ہاتھیوں کے وزن کے برابر قرار دیا جاسکتا ہے۔
پانچویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی آبشار آبنائے ڈنمارک میں زیر زمین موجود ہے جہاں ٹھنڈا پانی گرم پانی سے بالکل الگ لیکن اسی پانی سے ساڑھے تین کلومیٹر نیچے پایا جاتا ہے۔
چھٹی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے دو براعظم بشمول افریقہ اور جنوبی امریکا ایک دوسرے سے بہت دھیمی رفتار کے ساتھ دور جارہے ہیں جس کی رفتار تقریباً اتنی ہی ہے جتنی رفتار سے ایک انسان کے ناخن بڑھتے ہیں اور اس رفتار سے یہ براعظم ایک سال میں ایک دوسرے سے صرف 2.5سینٹی میٹر ہی دور جاسکتے ہیں۔
ساتویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سرد ترین اور برف سے ڈھکے ہوئے براعظم کہلانے والے انٹارکٹیکا کے کچھ حصے ایسے بھی ہیں جہاں گزشتہ 20 لاکھ سال سے برف تو کیا، بارش تک کا گزر نہیں ہوسکا اور یہ زمین کا خشک ترین خطہ کہلاتے ہیں۔
آٹھویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ زمین کا سب سے طویل جاندار ہاتھی، وہیل یا کوئی اور سمندری جانور نہیں بلکہ آرمیلیریا آسٹوئے نامی ایک فنگس ہے جو زیر زمین طوالت کے اعتبار سے کئی کلومیٹرز تک پھیل سکتا ہے۔
نویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ زمین پر آسمانی بجلی کا چمکنا ایک ایسا فطری مظہر ہے جو ہر ایک سیکنڈ میں تقریباً 100 بار واقع ہوتا ہے لیکن زیادہ تر یہ آسمانی بجلی بادلوں کے مابین ہی چمک کر ختم ہوجاتی ہے اور اسے انسانی آنکھ باہر نہ آنے کے باعث دیکھ نہیں سکتی۔
دسویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ خلا مکمل طور پر خاموش نہیں ہوتا بلکہ وہاں انتہائی کم درجے کی توانائی اور شعاعیں موجود ہوتی ہیں۔ البتہ چونکہ آواز کے سفر کے لیے ہوا یا کوئی مادہ درکار ہوتا ہے، اور خلا میں یہ موجود نہیں، اس لیے انسانی کان خلا میں کسی آواز کو سن نہیں سکتے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








