غریب ہوتا تو ہتھکڑی لگ چکی ہوتی! گوجرانوالہ میں شادی میں بچوں کے سامنے کلاشنکوف سے ہوائی فائرنگ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

گوجرانوالہ میں شادی کی ایک تقریب کے دوران سرِعام کلاشنکوف سے ہوائی فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص بچوں اور خواتین کی موجودگی کے باوجود بے خوف ہو کر فائرنگ کر رہا ہے، جبکہ اردگرد موجود بچے شدید خوف کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ اس کے برعکس فائرنگ کرنے والا شخص خوش و خرم دکھائی دیتا ہے۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے گوجرانوالہ پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ پولیس مذکورہ شخص کو گرفتار کرنے میں آخر کتنا وقت لگائے گی۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کا قانون صرف غریبوں کے لیے ہے جبکہ بااثر افراد کے لیے قوانین نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ یہ شخص شاید قانون سے بالاتر ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ فائرنگ کرنے والے کو اس لیے نہیں پکڑا جائے گا کیونکہ اس نے پہلے ہی معاملہ سیٹ کر لیا ہوگا۔

قانونی پہلو

قانون کے مطابق ہوائی فائرنگ ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی شق 337-H(2) کے تحت ہوائی فائرنگ کو غیر ذمہ دارانہ عمل قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس سے انسانی جان اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کے عمل پر پولیس مقدمہ درج کر سکتی ہے۔

مزید یہ کہ اگر فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ بغیر لائسنس یا غیر قانونی ہو تو پنجاب آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت ملزم کو قید اور بھاری جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات میں عام طور پر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور اگر کسی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ یا واقعہ پیش آئے تو سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات میں ہوائی فائرنگ نہ صرف غیر قانونی بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرناک عمل ہے، جس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔

Related Posts