سونا دنیا کی مہنگی ترین دھاتوں میں سے ایک ہے جسے اس دنیا میں سب سے زیادہ خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ سونا زمین اور سورج سے بھی زیادہ پرانا ہے اور یہ زمین پر بنا ہی نہیں تھا، بلکہ نظامِ شمسی کو پیدا کرنے والے جوہری عمل اور سپر نووا دھماکوں سے پیدا ہوا۔
سونے کے معتلق پہلی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سونا زمین بننے سے پہلے وجود میں آچکا تھا کیونکہ تمام عناصر کی بنیاد ہمارے سورج جیسے ستاروں کی پیدائش سے قبل گیس اور دھول کے اس بادل میں موجود تھی، جو ان کی پیدائش کا باعث بنا اور جب زمین بنی تو سونا اس کے اندر مختلف تہوں میں سما گیا جسے آج کل کان کنی کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔
دوسری سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سونا سورج سے بھی زیادہ پرانا ہے جبکہ سورج اور زمین دونوں ایک ہی ستاروں کے گیس اور دھول کے بادل (سولر نیبولا) سے بنے تھے۔ جب بڑے ستارے اپنی زندگی کے اختتام پر سپر نووا کے عمل سے گزرتے ہیں تو اس دوران سونے سمیت دیگر دھاتیں بنتی ہیں۔
تیسری سائنسی حقیقت یہ ہے کہ زمین کی ابتدائی ساخت میں بھاری دھاریں زیادہ تر مرکز میں ڈوب گئیں اور زمین کا مرکز سورج کی طرح انتہائی گرم ہے جہاں سے عملی طور پر ان دھاتوں کو نکالنا ممکن نہیں۔ لیکن کچھ سونا سطح کے قریب رہنے کے باعث قابلِ رسائی ہے جسے کان کنی کے ذریعے نکالنا ممکن ہے۔
چوتھی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سونا قدرتی مظاہر سے بھی پیدا ہوتا ہے لیکن یہ بہت شدید قسم کے مظاہر ہوتے ہیں جیسے نیوٹران اسٹارز کے آپس میں ٹکرا جانے سے، اور اس دوران اتنی توانائی اور نیوٹرانز کی پیدائش ہوتی ہے کہ ہلکی دھاتیں بھاری دھاتوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں جن میں سونا بھی شامل ہے۔نیوٹران اسٹارز وہ انتہائی گنجان ستارے ہیں جو سپرنووا کے بعد بچتے ہیں۔ جب دو نیوٹران اسٹار طاقتور کشش سے آپس میں ٹکرا جاتے ہیں، تو اتنی توانائی پیدا ہوتی ہے کہ سونا، پلاٹینم، اور دیگر بھاری عناصر بنتے ہیں۔
پانچویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سورج بھی ایک اہم قدرتی مظہر ہے جہاں کیمیائی تعاملات ہوتے ہیں لیکن سورج کی مرکزی حرارت اوردباؤ اتنا شدید نہیں کہ ہلکی دھاتیں بشمول لوہا یا سونا بن جائے۔ سورج زیادہ تر صرف ہائیڈروجن کو ہیلیم میں بدلتا ہے جو کہ دونوں ہی گیسز ہیں، دھاتیں نہیں۔
چھٹی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سونا صرف خاص مظاہر میں بننے کے باعث کائنات میں بہت کم پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سونا بہت قیمتی ہے۔ جدید تحقیق یہ تجویز کرتی ہے کہ کائنات میں دستیاب سونے کا ایک بہت بڑا حصہ نیوٹران اسٹار تصادموں سے آیا۔ اس کے نتیجے میں نکلا مواد بعد میں نئے ستاروں اور سیاروں کی تشکیل میں شامل ہوا۔
ساتویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سونے کی کیمیائی خصوصیات اسے ہوا یا پانی کے ساتھ کسی تعامل کی اجازت نہیں دیتیں، جیسا کہ لوہا پانی اور ہوا کے باعث زنگ آلود ہوکر خراب ہوجاتا ہے۔ سونے کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال پرانے سکے اور سونے کے زیورات آج بھی اتنے ہی چمکدار ہیں۔
آٹھویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سونا زہریلا نہیں ہوتا اور انسانی جسم میں چلا جائے تو ہوا اور پانی کی طرح وہاں بھی کوئی تعامل نہیں ہوتا۔ اس لیے زیورات اور طبی آلات میں بھی سونے کا استعمال کیا جاتا ہے جو انسان کی جسمانی صحت کے حوالے سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
نویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سونا بجلی اور حرارت دونوں کو بہترین طریقے سے منتقل کرتا ہے جسے اصطلاحی اعتبار سے موصل کہتے ہیں۔ اس لیے جدید الکٹرانکس میں سونے کو اہمیت دی جاتی ہے اور جہاں ضروری ہو، اس کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
دسویں اور آخری سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سائنسدان سونا بنانے کا طریقہ جانتے ہیں اور اس طریقے سے سونا مصنوعی طور پر بنایا تو جاسکتا ہے لیکن یہ طریقہ انتہائی مشکل اور مہنگا ہے کیونکہ اس کیلئے سائنسدانوں کو نیوٹرانز کے دھماکوں یا جوہری ری ایکٹرز میں ہلکی دھاتوں کو بھاری دھاتوں میں بدلنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔دراصل اس عمل میں بہت زیادہ توانائی، مہنگا سامان، اور بھاری قیمت دینی پڑتی ہے جو تجارتی طور پر ناقابلِ عمل سمجھا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








