سندھ کے شہر حیدرآباد میں آتشبازی کی فیکٹری میں ہونے والے دھماکے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہفتے کو حیدرآباد میں آتشبازی کی ایک فیکٹری میں ہونے والے شدید دھماکے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوئے تھے، پولیس نے مختلف الزامات کے تحت متعدد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان میں جن میں ایک مبینہ غیرقانونی آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری کے مالک بھی شامل ہیں، کل تک اموات کی تعداد 9 بتائی گئی تھی، جبکہ آج دم توڑ جانے والا شخص پہلے ہی جھلس جانے کے باعث شدید زخمی تھا۔
ایم ایس لیاقت یونیورسٹی ہسپتال ڈاکٹر مجیب کلوڑ کے مطابق زخمی شخص کو جب داخل کیا گیا تو وہ تقریباً 100 فیصد جھلسا ہوا تھا جس کو سرجیکل وارڈ کے آئی سی یو منتقل کیا گیاتھا، تاہم متاثرہ شخص جانبر نہ ہوسکا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل دھماکا حیدر آباد کے لطیف آباد پولیس اسٹیشن بی سیکشن کی حدود میں، لغاری گوٹھ ندی کے کنارے واقع پٹاخوں کی فیکٹری میں ہوا۔لطیف آباد کے اسسٹنٹ کمشنر سعود لُنڈ نے بتایا کہ گھر میں بغیر لائسنس کے غیرقانونی طور پر آتش بازی کا سامان تیار کیا جا رہا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








