سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے ایف بی آر کے خوف سے شاہانہ طرزِ زندگی کے شواہد مٹانا کرنا شروع کر دیے

تازہ ترین

تازہ ترین

100,000 Social Media Influencers Start Removing Evidence of Luxury Lifestyle Fearing FBR Action
ONLINE

اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں لگژری طرزِ زندگی دکھانے والے تقریباً ایک لاکھ سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے اپنے اکاؤنٹس سے شاہانہ اخراجات اور آسائشوں کی تصاویر و ویڈیوز حذف کرنا شروع کر دی ہیں کیونکہ وفاقی محکمۂ محصولات (ایف بی آر) نے ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جو سوشل میڈیا پر فضول خرچی اور شان و شوکت کا مظاہرہ تو کرتے ہیں لیکن ٹیکس گوشواروں میں کم آمدنی ظاہر کرتے ہیں۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے پاس ان تمام صارفین کا مکمل ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے اور ان افراد کے خلاف سخت نگرانی کا عمل جاری ہے۔

ایف بی آر کے اہلکاروں نے متنبہ کیا ہے کہ جو افراد غیر ملکی دوروں، مہنگی گاڑیوں، قیمتی ملبوسات، یا عالیشان تقریبات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، انہیں آئندہ اس حوالے سے احتیاط برتنی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر اس وقت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ ان افراد کی نشاندہی کی جا سکے جن کی آمدنی اور طرزِ زندگی میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں راولپنڈی، لاہور، بہاولپور اور اسلام آباد کے چار انفلوئنسرز کے خلاف ٹیکس چوری کے نئے مقدمات بھی تیار کیے گئے ہیں جن میں ظاہر کردہ آمدنی اور اخراجات میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔

مزید یہ کہ ایف بی آر کی تحقیقات جنوبی پنجاب کے ایک معروف سیاستدان کے بیٹے تک بھی پہنچ گئی ہیں، جن کے خلاف مقدمہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ تمام شواہد مکمل ہونے کے بعد یہ کیسز متعلقہ عدالتوں میں قانونی کارروائی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا محکمہ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن اس ملک گیر مہم کی قیادت کر رہا ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر تین سے چار نئے ٹیکس چوری کے کیسز تیار کر رہا ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ اس مہم کے ابتدائی نتائج ایک ماہ کے اندر سامنے آ جائیں گے۔

اس مہم کے تحت ایف بی آر شادی ہالز، ڈریس ڈیزائنرز اور بیوٹی سیلونز سے بھی اخراجاتی ڈیٹا حاصل کر رہا ہے تاکہ شادیوں اور دیگر تقریبات میں ہونے والے اخراجات کے ذریعے پوشیدہ دولت کی جانچ کی جا سکے۔

Related Posts