کراچی میں لیاری حادثے کے بعد مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کے تناظر میں کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) نے شہر بھر میں خطرناک عمارتوں کے سروے کا آغاز کردیا ہے۔
سی بی سی کے ابتدائی سروے میں 125 ایسی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو مون سون کے دوران رہائشیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
سروے میں دہلی کالونی میں 51، مدنی آباد میں 16، لوئر گزری میں 7، چوہدری خلیق الزماں کالونی میں 5، پنجاب کالونی میں 14، جمہوریہ کالونی میں 27، اور بخشن ولیج میں 5 عمارتیں خطرناک قرار پائیں۔
کلفٹن بورڈ کے حکام نے واضح کیا کہ مون سون کی آمد سے پہلے یہ عمارتیں خالی کرنا ضروری ہے، ورنہ ان کے منہدم ہونے یا کسی حادثے کے نتیجے میں قربانیوں اور جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
کلفٹن بورڈ کنٹونمنٹ نے مالکان اور کرایہ داروں کو عمارتیں فوری خالی یا منہدم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت کی صورت میں کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ خطرناک عمارت گرنے سے جانی یا مالی نقصان کا ذمہ دار بورڈ نہیں ہوگا جبکہ کسی بھی قسم کا دعویٰ یا ہرجانہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
متاثرہ افراد اسٹرکچرل انجینئر سے معائنہ کروا کر فوری رپورٹ جمع کروائیں اور معائنہ صرف پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ انجینئر یا فرم سے کروایا جائے، تاخیر نقصان کا باعث بن سکتی ہے، معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








