ملک بھر میں گزشتہ 11 ماہ میں آزادئ اظہارِ رائے کے خلاف 140 کیسز رپورٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی: ملک بھر میں گزشتہ 11 ماہ کے دوران آزادئ اظہارِ رائے کی خلاف ورزیوں کے 140 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 3 مئی کو آزادی صحافت کے عالمی دن کی تقریبات سے قبل جاری ہونے والی سالانہ پاکستان پریس فریڈم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں، میڈیا پروفیشنلز اور میڈیا اداروں کو دھمکیوں اور حملوں میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

چلڈرن اسپتال کے نرسنگ ہاسٹل سے نرس کی لاش بر آمد

پاکستان نے اس سال ملک بھر میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لیے اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ تشدد یا دھمکی کے بغیر کام کر سکیں۔ میڈیا رائٹس واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک نے صحافیوں کے حق میں باضابطہ رپورٹ جاری کردی۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں صحافیوں کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافے کا اشارہ دیا گیا ہے کیونکہ اس میں مئی 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان کم از کم 140 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پاکستان میں صحافت کے لیے سب سے خطرناک جگہ قرار دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں صحافت کے اصولوں کی 56 (40%) خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔ پنجاب دوسرے نمبر پر رہا جہاں خلاف ورزی کے 35 (25%) کیسز ہوئے، اس کے بعد سندھ میں 32 (23%) کیس رپورٹ ہوئے۔ حالیہ مہینوں میں ملک کا میڈیا ماحول خطرناک اور زیادہ پرتشدد ہو گیا ہے۔

جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان حملوں کی تعداد 63 فیصد بڑھ کر 140 ہو گئی جو 2021-22 میں 86 تھی۔ رپورٹ میں زیر جائزہ مدت میں پاکستان میں کم از کم پانچ صحافیوں کے قتل کی بھی دستاویز کی سامنے لائی جاچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اوسطاً ہر ماہ یا تقریباً ہر دوسرے دن آزادی صحافت کی خلاف ورزی کے 13 واقعات ہوتے ہیں۔ میڈیا کے حقوق کی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ پریشان کن ہے اور یہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

Related Posts