بھارت میں بنائی گئی پاکستان مخالف فلم دھرندر کی گلوکارہ جیسمین کے کنسرٹ ک دوران 2 افراد نے بدتمیزی کی جس پر گلوکارہ نے کنسرٹ روک کر سکیورٹی اہلکاروں کو بلا لیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی کنسرٹس میں خواتین کی سلامتی بڑا مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ موسیقی کے کنسرٹس کے دوران متعدد فنکاروں اور مداحوں نے ایسے ایونٹس کو خواتین کیلئے غیر محفوظ قرار دیا کیونکہ کنسرٹس میں شامل افراد خواتین کو ہراسگی کا شکار کرسکتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پنجابی سنگر جیسمین سینڈلاس نے دہلی میں کنسرٹ کے دوران بدتمیزی کرنے والے 2 افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی پرفارمنس کو درمیان میں روک دیا۔ شرارت کے گیت سے شہرت حاصل کرنے والی گلوکارہ نہرو اسٹیڈیم نئی دہلی میں پرفارم کر رہی تھیں۔
گلوکارہ روایتی بھارتی لباس میں پالکی پر اسٹیج تک پہنچیں جس پر ان کے مداحوں نے حیرت کا اظہار کیا۔ اسی دوران جیسمین سینڈلاس نے مجمع میں موجود دو مردوں کو دیکھا جو اردگرد موجود خواتین کو ہراساں کر رہے تھے، جس پر گلوکارہ نے سکیورٹی کو بلا کر کہا کہ ان افراد کو یہاں سے ہٹائیں۔ یہ خواتین کو تنگ کر رہے ہیں۔
بعد ازاں گلوکارہ نے پنجابی میں کہا کہ میں اس وقت تک گانا نہیں گاؤں گی جب تک کہ خواتین کو تحفظ کا احساس نہ ہو۔ اس پر حاضرین نے کھل کر تالیاں بجائیں جبکہ خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کو مجمع سے باہر نکال دیا گیا، تاہم بھارت میں یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس سے قبل میگھالیہ کنسرٹ کے دوران “بے بی ڈول میں سونے دی” گانے والی بھارتی گلوکارہ کنیکا کپور کے کنسرٹ کے دوران بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایک شخص رکاوٹیں عبور کرکے اسٹیج پر چڑھ گیا اور کنیکا کپور کو پکڑنے کی کوشش کی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








