آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیلات شدید متاثر ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں مئی تک 22 طے شدہ کارگو شپمنٹس رک گئی ہیں۔ اس صورتحال نے ملک کو موسمِ گرما کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کے دوران گیس کی قیمتوں میں اضافے اور طویل لوڈشیڈنگ کے خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ تعطل ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سامنے آیا جب فروری کے آخر میں ایران کے انقلابی گارڈز نے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت پر پابندیاں سخت کر دیں۔ یہ تنگ سمندری راستہ عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا ذریعہ ہے جبکہ پاکستان مکمل طور پر قطر سے آنے والی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے۔ مارچ کے بعد سے پورٹ قاسم کی طرف آنے والے بیشتر کارگو واپس بھیجے جا رہے ہیں جس سے شپنگ ٹریفک معمول سے کہیں کم ہو گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں اس کمی کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں بجلی پیداوار کا 60 سے 70 فیصد حصہ ایل این جی کی درآمدات پر منحصر ہے۔ ری گیسیفائیڈ ایل این جی (RLNG) ملک کے 4,500 میگاواٹ سے زائد بجلی گھروں جیسے بھکھی، بلوکی اور حویلی بہادر شاہ کو ایندھن فراہم کرتی ہے جو شام کے اوقات میں بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگرچہ سولر توانائی کے پھیلاؤ کے باعث مجموعی بجلی پیداوار میں ایل این جی کا حصہ کم ہو کر تقریباً 10 سے 11 فیصد رہ گیا ہے تاہم یہ پاور پلانٹس سورج غروب ہونے کے بعد گرڈ کو مستحکم رکھنے کے لیے اب بھی ناگزیر ہیں۔
سپلائی میں اچانک کمی کے باعث ملک کو 4 ہزار سے 5 ہزار میگاواٹ تک کے شارٹ فال کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں حکام نے روزانہ 2 سے 2.25 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا ہے جو زیادہ تر شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان کی جا رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ دورانیہ اس سے بھی زیادہ ہو رہا ہے۔
عام صارفین کے لیے اس کا مطلب گرم راتیں، بند پنکھے اور اے سی، موبائل فون چارجنگ میں رکاوٹ اور بازاروں میں اندھیرا ہے۔ صنعتی یونٹس اور کھاد بنانے والے کارخانے بھی گیس اور بجلی کی کمی سے متاثر ہو رہے ہیں جس سے پیداوار میں کمی، روزگار کے خطرات اور مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اس صورتحال کی وجہ سے بجلی کے بلوں میں بھی اضافہ متوقع ہے کیونکہ یوٹیلٹیز کو مہنگے متبادل ایندھن جیسے فرنس آئل اور درآمدی کوئلے پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے جس سے فی یونٹ قیمت میں 6 سے 8 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








