کراچی:اقلیتوں کے نام پر بنایا جانے والا رہائشی منصوبہ بعض کرتا دھرتاؤں کی مبینہ کرپشن کے باعث کھٹائی میں پڑ گیا، منصوبے کی تکمیل کے لیے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز پاکستان (آباد)کے وائس چیئرمین عبدالرحمٰن سے بشپ صادق ڈینیئل نے 12 کروڑ روپے بھی مبینہ طور پر وصول کیے تھے جو موصوف ہڑپ کر گئے۔
بشپ صادق ڈینیئل اس سے قبل بھی کئی جعلسازیوں میں ملوث رہے ہیں اور مسیحی برادری کے نام پر انہیں دھوکہ دینے کے متعدد الزامات کا سامنا بھی ہے، تیسرٹاؤن میں نادرن بائی پاس پر”ہارمونی میڈوز“ کے نام سے سات ہزار سے زائد فلیٹوں پرمشتمل اربوں روپے کا منصوبہ تعمیر کرنے کے لئے میسرزڈایوسس آف کراچی چرچ آف پاکستان کے سیکریٹری ظفراقبال کے ساتھ ہارمونی میڈوز نامی مذکورہ منصوبے کی تعمیر کا معاہدہ کیاگیا جس پر عمل درآمد نہیں کیاجاسکا۔
وائس چیئرمین(آباد) نے بوگس چیک جاری کرنے پر بشپ صادق ڈینئل کیخلاف ایف آئی آر درج کروادی ہے۔ تقریباً 25ارب روپے مالیت کے اس منصوبے کے لئے بیرونی امداد کے طورپر سرمایہ کاری کی جائے گی بیرون ممالک کی فنڈنگ کا اس منصوبے میں 70فیصدحصہ ہوگا اور30فیصدادائیگی مذکورہ چرچ کے ممبرادا کریں گے۔
اتنی خطیربیرون ممالک کی فنڈنگ کی ضمانت کا سوال اٹھایاگیا جس پردونوں فریقین کے مابین طے پایاکہ اگرمذکورہ تعمیراتی کمپنی یہ منصوبہ پائیہ تکمیل نہ پہنچا سکی تواس کی ضمانت کیسے دی جائے گی،جس کے پیش نظر وائس چیئرمین آباد سے12کروڑروپے بطورضمانت اینٹھ لئے گئے۔
اس سلسلے میں 16اکتوبر2019ء کومذکورہ چرچ سے تعلق رکھنے والی اقلیت کے لئے تیسرٹاؤن نادرن بائی پاس پرہارمونی میڈوز نامی منصوبہ تعمیر کرنے کی غرض سے ایک معاہدہ مذکورہ چرچ کے مبینہ جعلی سیکریٹری ظفراقبال ولد بشیراختراوربسیں گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ وچائیل بلڈرزاینڈ ڈیولپرز کے مالک عبدالرحمن کے مابین طے پایا۔
ذرائع کا کہناہے کہ ڈی اوسز آف کراچی چرچ آف پاکستان کی ایک جعلی قرارداد کے ذریعے16اکتوبر2019ء کومذکورہ چرچ کے کونسل ممبران کی جانب سے جعل سازی کے ذریعے ظفراقبال ولد بشیراخترکوسیکریٹری کے اختیارات تفویض کئے تاکہ مذکورہ ہاؤسنگ منصوبے کی تعمیر کیلئے معاہدہ کرسکے۔

بتایاجاتاہے کہ مذکورہ قرارداد پردستخط کرنے والے 120ممبران میں سے کئی انتقال کرچکے تھے اس لئے قرارداد مذکورہ پرمتعدد جعلی دستخط کی وجہ سے قرارداد بھی جھوٹ کا پلندا نکلی اور13دسمبر2019ء کوبشپ صادق ڈینئل کی جانب سے بیرون ممالک کی فنڈنگ عنقریب شروع ہونے سے متعلق فراہم کردہ خط بھی قراردادمذکورہ کی طرح جعلی نکلا۔

جس میں اقلیتوں کیلئے ایک اسپتال بنانے کے منصوبے کے لئے فنڈز جمع کرنے کے لئے مختلف مخیرحضرات اوراداروں سے رابطہ کرنے اورجلد مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی اوراس سلسلے میں پہلی قسط مارچ 2020ء کے وسط میں فراہم کرنے کا کہاگیاتھا شایدیہی وہ جعلی خط تھا جس کودیکھ کرآباد کے وائس چیئرمین کویقین ہوگیاتھا کہ منصوبے کی تعمیر کے لئے چند ماہ کے اندربیرون ممالک سے فنڈز موصول ہونا شروع ہوجائیں گے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








