بھارت: پنجاب سمیت شمالی علاقوں میں تباہ کن سیلاب، 30 ہلاکتیں، لاکھوں افرا دمتاثر

تازہ ترین

تازہ ترین

Govt to Impose Flood Levy on Luxury Goods to Fund Reconstruction
ONLINE

بھارتی پنجاب میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے جس کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک جبکہ 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کی تمام 23 اضلاع کو سیلاب زدہ قرار دے دیا گیا ہے، جہاں سے اب تک 20 ہزار کے قریب رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔

حکومت نے ریسکیو آپریشنز کے لیے 35 ہیلی کاپٹرز اور 100 کشتیاں تعینات کر دی ہیں جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارشوں کے باعث بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اب تک صرف پنجاب میں ہی ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر زرعی رقبہ تباہ ہو چکا ہے۔

رواں برس مون سون نے شمالی بھارت کو بدترین تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اگست کے دوران ہی 130 افراد مختلف حادثات میں لقمۂ اجل بنے۔

متعدد دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، سڑکیں اور پل بہہ گئے اور اہم انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔

شدید متاثرہ ریاستوں میں پنجاب، مقبوضہ کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ شامل ہیں جہاں دریائے چناب اور توی خطرناک حد تک بلند ہو گئے ہیں۔

اچانک آنے والے سیلاب اور بھاری لینڈ سلائیڈنگ نے جموں اور ہماچل پردیش کے کئی پہاڑی علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے کاٹ دیا ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں دریائے یمنا خطرے کی سطح سے اوپر بہنے لگا ہے جس کے باعث 10 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے، 2023 میں بھی یمنا کی سطح بلند ہو کر 45 سال کا ریکارڈ توڑ چکی تھی، جس سے ہزاروں افراد بے گھر ہوئے تھے۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں بارش سے مکان گرنے سے ماں اور بیٹی ہلاک ہوگئیں، جبکہ ہماچل پردیش کے منڈی ضلع میں لینڈ سلائیڈنگ سے تین افراد جاں بحق اور دو ملبے تلے دب گئے۔

بھارتی محکمہ موسمیات نے اتراکھنڈ، اتر پردیش اور ہماچل پردیش میں بدھ تک شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

کئی ریاستوں میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں اور عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بارشیں اگر جاری رہیں تو مزید زرعی نقصان اور غذائی بحران کا خدشہ ہے جبکہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

Related Posts