اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے مبینہ اغوا کیس میں گرفتار ملزم حسن زاہد کو ضمانت دے دی ہے۔
عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے 20 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا۔
عدالتِ عالیہ کے ایڈیشنل سیشن جج عامر ضیا نے ملزم کو حکم دیا کہ وہ تفتیش میں مکمل تعاون کرے۔ کیس کی اگلی سماعت 9 ستمبر کو ہوگی۔
ملزم حسن زاہد نے اپنے مؤقف میں کہا کہ وہ بے گناہ ہے اور یہ مقدمہ اسے ہراساں اور بلیک میل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
گزشتہ روز ملزم کو ایک اور مقدمے میں پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھاجس میں سامعہ کو ہراساں کرنے اور تشدد کے الزامات شامل ہیں۔
پولیس نے عدالت سے آٹھ روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ ملزم سے گاڑی، پستول اور نقدی برآمد کی جا سکے تاہم عدالت نے صرف پانچ روزہ ریمانڈ منظور کیا۔مقامی مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری کی عدالت میں پیشی کے دوران ملزم نے کہاکہ سر، مجھ سے غلطی ہوئی۔
مقدمہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سامعہ حجاب نے اسلام آباد کے شالیمار تھانے میں شکایت درج کرائی کہ حسن زاہد کئی دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تھا اور تحائف و دباؤ کے ذریعے اسے پریشان کر رہا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق 31 اگست کی شام ساڑھے چھ بجے ملزم نے اس کے گھر کے باہر اغوا کی کوشش کی۔ واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔
سامعہ حجاب نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اسے اپنی جان کا شدید خطرہ ہے اور وہ مسلسل ملزم کی جانب سے دھمکیاں وصول کر رہی ہے۔ اس نے حکام سے فوری تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی۔
ملزم حسن زاہد کی رہائی کے بعد کیس کے حوالے سے مزید اہم اور سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے معلومات بھی عام ہونے کا امکان ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








