کراچی میں رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائمز میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری قیمتی سامان سے محروم ہو گئے جبکہ درجنوں افراد اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوری سے اگست 2025 تک شہر بھر میں 43 ہزار 419 اسٹریٹ کرائمز رپورٹ ہوئے۔
ان وارداتوں کے دوران ڈکیتی کی مزاحمت کرنے پر 60 شہری جاں بحق اور 216 زخمی ہوئے تاہم پولیس ریکارڈ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 53 بتائی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک شہریوں سے 11 ہزار 268 موبائل فونز چھینے گئے، جبکہ 1 ہزار 430 گاڑیاں اور 30 ہزار 721 موٹر سائیکلیں چوری یا چھینی گئیں۔
اس طرح یومیہ اوسط کے حساب سے موبائل فون چھیننے کی شرح 46.37، گاڑیوں کی چوری یا چھیننے کی شرح 5اعشاریہ 88 اور موٹر سائیکلوں کی یومیہ چوری یا چھیننے کی شرح 126اعشاریہ 42 رہی۔
گزشتہ سال کے اعداد و شمار بھی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ صرف آٹھ ماہ میں 2024 کے دوران 49 ہزار 615 اسٹریٹ کرائمز رپورٹ ہوئے تھے جن میں مزاحمت کرنے پر 78 شہری جاں بحق اور 310 زخمی ہوئے۔
اس دوران 13 ہزار 406 موبائل فونز، 1 ہزار 342 گاڑیاں اور 34 ہزار 867 موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتیں شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر رہی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








