ثاقب نثار رانا شمیم معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کو بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے جبکہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کاکہناہے کہ ملک کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے۔

سابق چیف جج رانا شمیم کی جانب سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار پر نوازشریف کی سزا کے حوالے سے لگائے جانیوالے الزامات کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد گلگت بلتستان کے سابق چیف جج عدالت میں پیش ہورہے ہیں اور انہوں نے اخبار میں شائع ہونے والے بیان حلفی کی تصدیق کر دی ہے۔

رانا شمیم کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے روبرو کہا کہ سابق چیف جج کا شائع شدہ بیان حلفی درست ہے، ثاقب نثار کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں،بیرون ملک ریکارڈ کرانے کا مقصد دستاویز کومحفوظ رکھنا تھا، حلف نامے کے مندرجات درست ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مر حومہ بیوی کے ساتھ وعدہ تھا ،حقائق سامنے لائے جائیں گےمگر اسے اپنی زندگی میں پبلک نہیں کرنا چاہتا تھا ، بیرون ملک اسلئے بیان ریکارڈ کرایا کہ محفوظ رہے ۔وکیل کا کہنا ہے کہ میرا مؤکل کہتا ہے، بیان حلفی سے متعلق جو شائع ہوا وہ درست ہے اور وہ اس بات پر قائم ہیں ، قانون میں ہے جو بات تسلیم کر لی جائے اس کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کسی کی جرأت نہیں تھی مجھ سے رابطہ کرتا اور نہ اب کوئی کر سکتا ہے، رانا شمیم سے جو میری آخری گفتگو ہوئی وہ یہ تھی کہ آپ کی وجہ سے میری توسیع نہیں ہوئی،میں نے انہیں کہا کہ ایکسٹینشن تو میرا اختیار نہیں ہے وہ توحکومت کا ہے ۔میں کیسے کرسکتا ہوں؟۔

رانا شمیم اور ثاقب نثار کے معاملے میں عدالت کا کہنا ہے کہ بغیر کسی گراؤنڈ کے تحقیقات کا حکم نہیں دے سکتے وگرنہ کل کو ہر کوئی آڈیو لے کر آجائیگا۔

یہ درست ہے کہ آج ٹیکنالوجی کا دور ہے اور کسی بھی آڈیو یا ویڈیو کاٹ چھانٹ کر بنالینا عام سی بات ہے تاہم یہ معاملہ عدالتوں کی ساکھ اور ایک سابق چیف جسٹس سے متعلق ہے تو عدلیہ اور ریاست کو اس میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کرنا ہوگاتاکہ حقائق کھل کر سامنے آسکیں۔

بادی النظر میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کا معاملہ حل ہونے کی بجائے الجھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جبکہ حکومت ابھی تک اس کی تحقیقات کرانے کیلئے تیار نہیں اورن لیگ بھی اسے عدالت لے کر نہیں گئی ہے ۔ 2017ء کے بعد سے عدلیہ کی ساکھ پر مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں ۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنا ضروری ہے تو ثاقب نثار کو بھی بیرون ملک جانے سے روکا جائے۔حقیقت جو بھی ہواس واقعہ سے عدلیہ کی ساکھ ضرور متاثر ہوئی ہے ۔ اب ہونا یہ چاہیے کہ حکومت اس تنازعہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ عدالتی فیصلوں پر سوالات کا سلسلہ بند ہوسکے۔

Related Posts