وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بلوچستان کے شہر گوادر کے عوام کی جانب سے گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے جاری احتجاج کے بعد نوٹس لے لیاہے۔
وزیراعظم نے غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سے بھی بات کرنے کا یقین دلایا ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنماء مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں ساحلی شہر کے لوگوں نے 15نومبر کو گوادر کو حق دوتحریک کا آغاز کیا تھا ۔اس سلسلے میں ہونے والے احتجاجی دھرنوں میں خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد شریک ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے اورٹرالر مافیاکا خاتمہ کیا جائے۔گوادر میں ماہ نومبرسے جاری احتجاج کے سلسلے میں گزشتہ روز ملک کے دیگر مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں۔
گوادر کے عوام روزگار، تعلیم، صحت، سی پیک میں کئے گئے تمام وعدے ،صاف پانی کی فراہمی، غیر قانونی ماہی گیری کے خاتمے اور ہراسانی ختم کرنے کیلئے احتجاج کررہے ہیں۔اہم بات تو یہ ہے کہ اس احتجاجی تحریک کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے اور احتجاج میں بلوچستان کی خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہیں۔
گوادر کو حق دو ریلی کے شرکاء کاکہنا ہے کہ 15 نومبر سے اپنے لوگوں کے لیے انصاف اور نوکریوں کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ جنوب مغربی مکران کے ساحل پر غیر قانونی طور پر مچھلیوںکے شکار سے ماہی گیروں کا روزگار چھینا جارہا ہے۔ہم کسی ادارے کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم اپنی ماؤں اور بہنوں کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔
ہم ان لوگوں کے خلاف ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو کھیل کے میدان تک نہیں جانے دیتے۔ان کا کہنا ہے کہ محکمہ ماہی گیری، کوسٹ گارڈز، میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی اور دیگر متعلقہ ادارے غیر قانونی شکارکو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔مظاہرین نے صحت کی ناکافی سہولیات، پینے کے صاف پانی کی قلت اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کی کمی کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔
مظاہرین کاکہنا ہے کہ غیر قانونی ماہی گیری سمندری زندگی کو تباہ اور مقامی ماہی گیروں کو ان کی روزی روٹی سے محروم کر رہی ہے،غیر قانونی شکار بند کرکے ٹوکن سسٹم کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور سرحدی تجارت کو پہلے کی طرح بحال کیا جائے۔
گزشتہ ایک ماہ سے جاری احتجاج کے بعد وزیراعظم عمران خان کے نوٹس لینے پر حق دو تحریک کے روحِ رواں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے تو مثبت سمجھتے ہوئے اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم ضدی لوگ نہیں ہیں، مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔
بلوچستان اس وقت پاکستان کی معیشت میں ایک انتہائی اہم مقام حاصل کرنے جارہا ہے اور پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں ۔ایسے میں گوادر میں جاری احتجاج ملک کیلئے کسی صورت سود مند نہیں ہے اور اس تحریک کو عالمی میڈیا ،خاص طور پر بھارت میں سی پیک کیخلاف مذموم پروپیگنڈے کے طور پرپیش کیا جارہا ہے۔
حکومت کوفوری طور پر مظاہرین کے جائز مطالبات پر عملدرآمد کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کے عوام کے مسائل حل ہوں اور دشمن قوتوں کو پاکستان کا تشخص متاثر کرنے کا موقع نہ مل سکے۔