محکمۂ انسانی حقوق پنجاب نے نئی موبائل ایپ تیار کی ہے جس کے ذریعے خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کی جاسکے گی۔ ایپ کے ذریعے ظلم و تشدد، امتیازی سلوک اور دیگر شکایات کا اندراج آسانی سے کرایا جاسکے گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں خواجہ سراؤں کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ تحفظ حاصل ہے تاہم صنفی امتیازات سے بھرپور معاشرے میں آج بھی بہت سے خواجہ سرا اپنے حقوق کے حصول کیلئے دربدر ہیں جنہیں انصاف مہیا کرنے والا کوئی نہیں۔
واٹس ایپ کا مختلف گروپس ایک جگہ کرنے کیلئے فیچر متعارف کرانیکا فیصلہ
ٹوئٹر ویڈیو میں آٹوکیپشن کا فیچر بھی پیش کردیا گیا
گزشتہ چند برس میں خواجہ سراء شناختی کارڈ، تعلیم، جائیداد، ووٹ اور دیگر کئی حقوق کے مالک بنے تاہم قانون کا نفاذ نہ ہونے کے باعث خواجہ سراء برادری اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور بے روزگار ہیں جنہیں گزر بسر کیلئے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔
بعض خواجہ سراؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہمارے متعلق ماضی میں اختیار کیے گئے رویوں میں تبدیلی آئی ہے تاہم تعلیم کی کمی، بے روزگاری، جنسی تشدد، مارپیٹ، بھیک مانگنے پر مجبور کرنا اور شادی بیاہ میں ذلت آمیز رویے سمیت دیگر ظلم عام ہے۔
نئی ایپ کے ذریعے خواجہ سراء پر ہونے والے تشدد کی رپورٹنگ کوئی بھی شہری کرسکے گا جس کے ساتھ ہی توقع کی جارہی ہے کہ معاشرے کے اس محروم طبقے کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم و ستم میں کسی نہ کسی حد تک کمی آئے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








