کراچی: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے سربراہ اورجمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ 23 مارچ صرف پریڈ والوں کا نہیں مارچ والوں کا بھی دن ہے،لانگ مارچ ہرصورت کرینگے،کچھ فیصلوں کا اطلاق اسپاٹ پر ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے حوالے سے قانون سازی کے ذمہ دار سینیٹ سے غیر حاضرممبران نہیں بلکہ اس کا ذمہ دار وہ ہے جس نے رات گیارہ بجے ایجنڈا جاری کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آئین کی موجودگی میں صدارتی طرز کے نظام کی ضرورت نہیں ہے،صدارتی طرز حکومت کی وجہ سے ملک دولخت ہوا تھا،پانچ فروی کویوم یکجہتی کشمیرمنائیں گے۔
جامعہ انوارالعلوم کورنگی میں جے یوآئی سندھ کی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔قبل ازیں جے یوآئی کے امیرمولانا فضل الرحمن کی زیرصدارت جے یوآئی سندھ کی جنرل کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم نے خود کشمیر کو بھارت کے حوالے کیاہے،اس وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کا اعلان کیا جسے کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا ریاستی موقف بھی نہیں پتا، مودی عمران خان کا فون اٹھانے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے عالمی برادری کچھ کرے،کشمیری حکومت پاکستان سے توقع نہ کریں جے یو آئی 5 فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طورپر منائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ صدارتی طرز حکومت آمروں کا طرز حکومت ہے۔
جب ملک میں آئین پاکستان ہے تو صدارتی طرز حکومت ٹھیک نہیں،قوم کو تجربات سے نہ گزارا جائے ملک صدارتی طرز حکومت کی وجہ سے دولخت ہواتھا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ 23 مارچ صرف پریڈ والوں کا نہیں مارچ والوں کا بھی دن ہے، ہم اپوزیشن کو کبھی ٹارگٹ نہیں کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم متحد ہے اور یہ تحریک چلتی رہے گی،لانگ مارچ ہرصورت کریں گے لانگ مارچ کے پلان اورکچھ فیصلوں کا اطلاق اسپاٹ پر ہوگا۔
مزید پڑھیں: ٹرانسپرنسی کی رپورٹ نے عمران خان کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا، بلاول بھٹو
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








