پاکستان کی تباہ حال معیشت

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کی تباہ حال معیشت اور مہنگائی کو کون بہتر کریگا، کیا نگراں حکومت یا شہبازشریف کی اتحادی حکومت اس بحران کو ختم کریگی؟ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک نگراں حکومت نے کبھی مہنگائی کو کم نہیں کیا بلکہ مہنگائی میں اضافہ کیا ہے کیونکہ نگراں حکومت سیاسی طور پر نہ سوچتی ہے نہ فیصلے کرتی ہے۔

ایسے سخت فیصلے کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے عوام اور معیشت پر ہمیشہ دباؤ آتا ہے، نگراں حکومت کی سوچ عارضی ہوتی ہے اور اسی عارضی سوچ کی وجہ سے وہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ جو فیصلے سیاسی لوگ نہیں کرسکتے ہم کرکے چلے جائیں۔اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ٹیکسز میں اضافہ، بجلی کی قیمتوں پر دی جانیوالی سبسڈی کو کم کرنا ، شرح سود کو بڑھانا اور ایسے مختلف اقدامات نگراں حکومت میں کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے اور عوام کچھ کہہ سکتے ہیں نہ کرسکتے ہیں۔

اب اگر ہم شہبازشریف کے حمایتی لوگوں کی حکومت کی بات کریں تو وہ معیشت کو کسی حد تک بہتر کرنے کی کوشش کرینگے تاکہ ایک سال بعد عوام عمران خان کو مہنگائی کا قصور وار ٹھہرا کر انہیں ووٹ دیں۔

عمران خان کو ملنے والے مبینہ خط میں بھی یہ درج تھا کہ عمران خان کے جانے کے بعد پاکستان کیلئے بہتری ہوگی اور اگر عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ پاکستان اور امریکا کی تجارت میں تیزی آئے اور آئی ایم ایف سے قرض کی شرائط میں بھی نرمی متوقع ہے جس سے ڈالر کی قیمت کم ہوجائے جس کا فائدہ آنیوالی حکومت کو ہوگا اور شہبازحکومت عوام کو یہ کہہ سکے گی کہ ہم معیشت کو مستحکم کررہے ہیں اور ان اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔

آنیوالی حکومت مہنگائی، بیروزگاری اور دیگر عوامی مسائل میں کمی کرکے عوامی رائے تبدیل کرسکتی ہے کیونکہ مہنگائی کا عفریت ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے بے لگام ہوا اور مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب شہبازشریف کے دور میں شرح سود کو آپ کم ہوتے ہوئے بھی دیکھیں گے جس سے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئیگی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور پیدا وار بڑھنے سے اشیاء کی لاگت میں بھی کمی آئیگی۔

تیسرا اہم مسئلہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت، عالمی منڈی میں گیس، کوئلے اور تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بجلی بنانے والی کمپنیوں کی لاگت کم ہوگی اور حکومت کوشش کریگی کہ زیادہ سے زیادہ گیس کی صورت میں بجلی بنائی جائے جس کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔

اگر ان اشیاء کی قیمتیں بڑھتی بھی ہیں تو حکومت مہنگے داموں امپورٹ کرکے آئی پی پیز کو سبسڈی کے ذریعے بجلی کی قیمتوں کو کم کرواسکتی ہے۔ بجلی کی قیمتیں کم ہوتے ہی صنعت کاروں اور عام انسانوں کیلئے آسانی پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ پاکستان میں سب سے زیادہ اخراجات بجلی اور تیل پر ہوتے ہیں۔

ان کے علاوہ دیکھا یہ جائیگا کہ پاکستان میں ہاٹ منی کی سرمایہ کاری زیادہ نظر آئیگی کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار عارضی طور پر پاکستان کے اندر پیسہ لائینگے اور مارکیٹ
کے اتار چڑھاؤ کے ذمہ دار وہ لوگ ہونگے جو اپنی بھاری سرمایہ کاری کے تحت مارکیٹ کو گراتے یااٹھادیتے ہیں۔

ہماری معیشت ایک اسٹاک مارکیٹ کی طرح چلے گی جو جذبات کے تحت اپنے عروج پر پہنچتی ہے اور اس عروج کا فیصلہ مارکیٹ کے بڑے کھلاڑی کرتے ہیں مگر کھلاڑی جتنے بھی بڑے ہوں اس سلسلے کو برقرار نہیں رکھ سکتے جب تک مارکیٹ کے فنڈا مینٹلز یا معیشت کے معاشی اشاریئے ترقی کا ساتھ نہ دیں۔

Related Posts