پاکستانی شوبز انڈسٹری کے لازوال فنکار اور مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے گیارہ برس بیت گئے۔
پاکستان کے لیجنڈ معین اختر نے کامیڈی، اداکاری، کمپیئرنگ سمیت فنون لطیفہ کی ہر فیلڈ میں اپنا لوہا منوایا، کروڑوں چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے معین اختر کو مداحوں سے رخصت ہوئے گیارہ برس بیت گئے، جب بھی پاکستان میں مزاح کی بات آتی ہے تو معین اختر کا نام بھی ضرور لیا جاتا ہے۔
معین اختر محض ایک اداکار ہی نہیں، بلکہ ایک دور کا نام تھا ،جنھوں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھائی۔ 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہونے والے لیجنڈ اداکار معین اختر کو فن کی اکیڈمی کہا جاتا تھا، کیونکہ فلم ہو ٹی وی یا پھر اسٹیج ڈرامہ، انہوں نے ہر شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
اُن کے معروف ٹی وی ڈراموں میں ’روزی‘، ’انتظار فرمائیے‘، ’بندر روڈ سے کیماڑی‘، آ’نگن ٹیڑھا‘، ’اسٹوڈیو ڈھائی‘، ’اسٹوڈیو پونے تین‘، ’یس سر نوسر ‘اور’عید ٹرین‘ شامل ہیں۔ ڈرامہ ’روزی‘ میں ان کا کردار شاید کبھی نہ بھلایا جاسکے۔ معین اختر کے کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں۔
خیال رہے کہ معین اختر 22 اپریل 2011 کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھےبعدازاں ساتھی فنکاروں کے مطابق پاکستان کی ثقافت کو ڈراموں اور شوز کے ذریعے معین اختر نےجس طرح سے متعارف کروایا کوئی دوسرا شاید ہی یہ کام اس خوبی سے کرسکے، اُن کی فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سمیت کئی اہم قومی اوربین الاقوامی ایوارڈزسے نوازاجاچکا ہے۔