پی ٹی آئی کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرقیادت مخلوط حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی جس سے ملک بھر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی کے بعد سے عمران خان نے بار بار شہباز شریف کی حکومت کو امپورٹڈ قرار دیتے ہوئے اس کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان فرماتے ہیں کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد غیر ملکی سازش کا حصہ تھی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ 7 مارچ کو امریکہ میں پاکستان کے سفیر سے موصول ہونے والا خط اپوزیشن کی جانب سے ان کے خلاف باضابطہ طور پر تحریک عدم اعتماد دائر کرنے سے ایک روز قبل ہی موصول ہوا جو ایک بین الاقوامی سازش کا ثبوت ہے۔ اس کے باوجود ایک کھلے اعتراف نے عمران خان حکومت کی تبدیلی کی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے میں ناکامی بے نقاب کردی۔ ایک حالیہ پوڈ کاسٹ کے دوران معزول وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر برقرار رہیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے سیاسی حریف ان کی حکومت گرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ حکومت کیلئے آنکھوں اور کانوں کے طور پر کام کریں۔
عمران کا یہ اعتراف کہ وہ گزشتہ سال جولائی سے اس وقت کی اپوزیشن کے ان کا تختہ الٹنے کے منصوبوں سے آگاہ تھے اور اس کے بعد آئی ایس آئی کے سربراہ کو اس اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ان کی برطرفی کے حالات کے بارے میں ان کے حالیہ دعووں کو واضح کرتا ہے۔ لوگوں کو پوچھنا چاہیے کہ وہ کیوں اصرار کرتے ہیں کہ انھیں بین الاقوامی سازش’ کے ذریعے نکالا گیا جب کہ بظاہر انھیں کئی مہینوں سے اپوزیشن کے منصوبوں کا علم تھا؟
عمران خان کی برطرفی کی وجہ نادانستہ طور پر ملکی سیاست کے انتظام میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ادا کیے جانے والے روایتی کرداروں میں سے ایک کو سامنے لایا ہے۔ اپنے تبصرے کے ساتھ ہی سابق وزیر اعظم نے اب خود تجویز کیا ہے کہ ان کی حکومت اس وقت تک قائم رہی جب تک وہ غیر سیاسی قوتوں کی حمایت کی بدولت قائم تھی۔
عمران خان جتنا زیادہ اس موضوع پر بات کرتے ہیں، بین الاقوامی سازش کی منطق مزید مبہم ہوتی جاتی ہے۔ ان کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں غیر ملکی سازش کا سامنا نہیں تھا بلکہ جاسوسی ادارے کے سربراہ کی حمایت سے انکار ہوا اور وہ طاقتور حلقوں کی حمایت کی عدم موجودگی میں اپوزیشن کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو گئے۔ کسی معتبر ثبوت کی عدم موجودگی میں غیر ملکی سازش کی تھیوری ہضم کرنا مشکل ہے، تاہم اگر کوئی ایک بھی دلیل منطق پر پوری اترے تو اس دلیل کی خاطر کیا یہ حکومت کے عہدہ پر رہتے ہوئے متعدد معاملات میں اپنی مکمل ناکامی کا اعتراف نہیں؟ قابل اعتراض پالیسی سازی، بری گورننس، ہٹ دھرمی، فیصلہ سازی کی کمی اور کم سے کم مشاورت پی ٹی آئی حکومت کی بڑی خصوصیات تھیں جو بہرحال ناکامی کا ہی سامنا کرنے والی تھی۔
یہاں تک کہ ملک کے اعلیٰ ترین سیکورٹی فورم یعنی قومی سلامتی کمیٹی نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ہم تسلیم نہیں کرتے کہ عمران خان کو وزیر اعظم ہاؤس سے ہٹانے کی کوئی بین الاقوامی سازش ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ عمران خان نے اقتدار میں واپسی کے لیے خفیہ سفارتی رابطے کا خود غرضانہ سیاسی استعمال کیا۔
یہ سچ ہے کہ امریکہ کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی اور خفیہ مداخلت کی تاریخ رہی ہے تاہم، مداخلت کا عمل سازش سے بالکل مختلف ہے۔ عمران خان کا جوا فوج کے ساتھ تصادم کا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے کیونکہ انہیں اب فوج کے خلاف جانا ہوگا۔