بھارتی حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے گستاخانہ بیان کے بعد ہمسایہ ملک میں مسلم مخالف بیانات کا ایک سلسلہ چل نکلا جس میں بی جے پی کے سیاستدانوں کے علاوہ میڈیا کے لوگ بھی ہرزہ سرائی کرتے نظر آئے۔
سوال یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی دلآزاری کو فیشن کیوں سمجھا جارہا ہے؟ اس کے پیچھے بی جے پی کی ہندوتوا کی پالیسی ہے جو پورے بھارت پر ہندوؤں کا قبضہ چاہتی ہے۔ شدت پسندوں کے مطابق ہمسایہ ملک میں مسلمانوں سمیت کسی اقلیت کے رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔
حال ہی میں عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی جانب سے بھارت کے بڑے شہروں میں خودکش حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہم ہر گستاخ، خاص طور پر بھارت میں ہندوتوا دہشت گردوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی عزت کیلئے کٹ مرنا آتا ہے۔
یہ کوئی نصف صدی کا قصہ نہیں بلکہ کم و بیش 20 سال پہلے کی ہی بات ہے جب 11 ستمبر 2001 کے روز امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کا الزام القاعدہ پر عائد کیے جانے کے بعد ساری دنیا کے مسلمان ایک طرف اور باقی دنیا دوسری جانب ہوگئی تھی۔
محسوس کچھ ایسا ہوتا ہے کہ القاعدہ کی جانب سے بھارت کو خودکش حملوں کی دھمکی بھی ایسا ہی کوئی پیغام ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں کمی نہیں بلکہ اضافے کی ہی توقع کی جاسکتی ہے اور اگر القاعدہ واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والوں کی کوئی جماعت ہے تو اسے مسلمانوں کے خلاف ایسی نفرت کو کبھی فروغ نہیں دینا چاہئے تھا۔
القاعدہ کی جانب سے بھارت کو خودکش حملوں کی دھمکی دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے خلاف پیدا ہونے والے شعور کو سبوتاژ کرنے کی سازش دکھائی دیتی ہے کیونکہ جب دنیا اسلاموفوبیا کی مذمت میں مصروف ہے اور مسلمان ممالک کی جانب سے بھی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی پر سخت ردِ عمل آیا تو ایک دہشت گرد تنظیم کو اس پر بول کر معاملہ متنازعہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
اسلام دشمنوں نے ہمیشہ دہشت گرد تنظیموں کو خود پیدا کیا اور نوجوان مسلمانوں کا برین واش کرکے ایسی تنظیموں میں انہیں چن چن کر شامل کیا گیا جو اپنے ہی بھائی بہنوں پر خودکش حملوں اور جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں۔ جامعہ کراچی پر خود کش حملہ اس کی تازہ ترین مثال کہی جاسکتی ہے۔
غور کیجئے تو جامعہ کراچی پر حملے میں ایک خودکش بمبار خاتون ملوث تھی جس نے چینی اساتذہ پر حملہ کرکے اپنے ہی جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر لیے۔ غیر ملکی شہریوں کی جانیں تو گئیں لیکن پاکستان میں سلامتی کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ کیا ایسا کوئی فعل کسی محبِ وطن کا ہوسکتا ہے؟
آج القاعدہ کی جانب سے گستاخانہ بیان پر خودکش حملے کی دھمکی سے بہت سے مسلمان یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ القاعدہ مسلمانوں کا ساتھ دینے لگی ہے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 2001 میں جو دہشت گرد حملہ ہوا تھا وہ بھی اسلام کی حمایت میں کیا گیا تھا، لیکن یہاں ایک لمحہ رک کر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے گستاخ کو سزائے موت دینے کی شرعی سزا کا تعلق ہے تو شرعی سزا دینا حکومت بلکہ اسلامی حکومت کا کام ہوتا ہے جس کا بد قسمتی سے آج کوئی وجود نہیں اور ہمیں کسی بھی گستاخ کو سزائے موت دینے سے قبل سود کی بنیاد پر چلنے والے اپنے ریاستی نظام کو بدلنے اور اس سے بھی بہت پہلے اپنے آپ کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ اسلامی نظام کی جدوجہد کرتے وقت ہم خود بھی رسول اللہ ﷺ کے پیروکار محسوس ہوں، مغربی آقاؤں کے غلام نہیں۔
اسلام نے مسلمانوں کو اپنے حقوق کی حفاظت سے لے کر رسول اللہ ﷺ کی تعظیم تک کبھی دہشت گردی نہیں سکھائی بلکہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کا درس دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیاروں کے قاتلوں کو بھی فتحِ مکہ کے روز لاتثریب علیکم الیوم فرما کر معاف کردیا تھا اور ہم اس نبئ مکرم ﷺ کی امت میں شامل ہیں جو آج دنیا بھر میں خود کو دہشت گرد کہنے والوں کے خلاف ہی دہائیوں سے برسرِ پیکار ہے۔
ایسے میں القاعدہ کی جانب سے خودکش حملوں کا پیغام بھارت کیلئے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی شناخت کیلئے ایک سوالیہ نشان بن جائے گا اگر اس کی کھل کر مذمت نہ کی جائے۔ مسلمان ممالک نے ہمیشہ سے بھارت پر دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے اور میں پر امید ہوں کہ آئندہ بھی بھارت پر ہونے والی دہشت گردی جس کا شکار ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہوں گے، اس کی مسلم امہ کی جانب سے بھرپور مذمت کی جائے گی۔ یہی ہر مسلمان کا ذاتی مؤقف ہونا چاہئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں