مملکت پاکستان اس وقت انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے،سیاسی و معاشرتی اور اقتصادی و معاشی بحران نے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرکے کردیا ہے۔اقتدار کے رسیاہ اقتدار میں آکر اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل اور باہم بندربانٹ کے لئے صرف ملکی قرضوں میں بے تہاشہ اضافے کے سوا اور کچھ نہیں کرسکے ہیں۔
سیاسی پارٹیاں راج گدی پر بیٹھ کر لٹیرے اور اپوزیشن میں آکر فرشتے بننے کا ناٹک کرتی رہی ہیں۔ایسے میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،عوام پر مہنگائی کا اس قدر بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ وہ نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتے۔پانی،بجلی،گیس اور دیگر بنیادی سہولیات و ضروریات سے محرومی اور دو روٹی کے حصول کی تگ و دو نے عام شہری کو ذہنی و نفسیاتی مریض بنادیا ہے۔
جرائم،بے راہ روی اور تشدد کا عنصر معاشرے میں پوری طرح سرایت کرچکا ہے۔ اور ان سب کی وجہ ہمارا گلا سڑا سیاسی نظام ہے جس نے طاقتور کو قانون سے بالا اور عام آدمی کو بے بس اور مجبور بنادیا ہے۔ اس سے پہلے کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے ہمارے سیاسی قائدین اور ارباب اختیار کو سوچنا ہوگا کہ ہمیں عوامی انقلابی کی نہیں بلکہ اصلاحی انقلاب کی ضرورت ہے۔
کیونکہ دنیا بھر کی منتخب حکومتیں اپنی عوام کی فلاح و بہبود اور تمام تر بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اپنے سیاسی نظام میں اصلاحت کا عمل جاری رکھتی ہیں لیکن ہمارے یہاں حکمران اور ان کے حاشیہ بردار اپنے ذاتی خزانوں کو بھرنے کے لئے مصنوعی بحران پیدا کرکے عوام کے منہ سے نوالہ تک چھیننے سے دریغ نہیں کرتے۔اس ظالمانہ روش نے ہماری سیاسی نظام کو بری طرح گزند پہنچانے کے ساتھ سماج اور معاشرے پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔
ہمارا معاشرہ بھائی چارگی،یکجہتی، صلح رحمی اور ہمدردی جیسی صفات سے محروم ہوتا جارہا ہے۔یہ اقتدار کی رسہ کشی اور نورا کشتی آخرکہاں جاکر رکے گی اور کب تک جاری رہے گی۔ اقتد ار کی یہ کشمکش آج کی بات نہیں ہے یہ کشمکش ملک کے قیام کے بعد ہی سے شروع ہوگئی تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی،سیاسی مداریوں کے لئے عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی و استحکام کو پسِ پشت ڈال کراقتدار کا حصول ہی اصل مقصد ٹھیرا۔
جس کی وجہ سے ملکی اقتدار کے ایو انوں میں محلا تی سا زشوں کا جال بنا گیا اور اقتد ار کے حصول کے لئے تو ڑ جوڑ اور ساز با ز کے دروازے کھل گئے اور ملکی و عوامی مفا د کے خلا ف اور ذاتی مفا د کے حق میں بالا بالا فیصلے ہونے لگے اور ان خو د غرض اور مفاد پر ستانہ اور ظالما نہ فیصلوں کی منطو ر ی کے لئے امریکی مدد حمایت اور تعاون کا حاصل کر نا لا زمی وضر ور ی قرار پایا۔
المیہ تو یہ ہے کہ اقتدار کا ہما اپنے سر پر بٹھانے کے لئے پہلے وزیر اعظم لیا قت علی خان کو قتل کر دیا گیا اور پھر ملک کے دوسرے حکمر ان خواجہ ناظم الدین کو محلاتی سا زشوں اور سامرا جی چالوں سے ایو ان اقتدا ر سے ذلیل کر کے نکال با ہر کر دیا گیا۔ اسکندر مرزا کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی،ایوب خان کو بے عزت کیا گیا،ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا اور شدید دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے کرنے والے نواز شریف کوخود ساختہ جلاوطنی پر مجبور کردیاگیا اور اب ورلڈ کپ کے فاتح کپتان عمران خان کو غدارکہا جارہا ہے۔
اقتدار کی اس ہوس نے وطن عزیز میں کیا کیا گل کھلائے اس پر تاریخ بھی انگشت بدندہ ہے۔اب یہ غداری کے سرٹیفکیٹ کی تقسیم بند ہونی چاہئے اس گلے سڑے بدبودار سیاسی نظام سے جان چھڑائی جائے اور اک نیا سیاسی نظام متعارف کرایا جائے۔اس گلے سڑے نظام کی بدولت ہی ہم نے دنیا کی جنگ کو خود پر مسلط کرکے بے شمار جانی و مالی نقصان برداشت کیا اور اپنے عاقبت نا اندیشانہ فیصلوں کے باعث ہم طاقتور ملکوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پانی سر سے اوپر ہو اس سے قبل سیاسی اشرافیہ اور ارباب اختیار اصلاحی انقلاب کی داغ بیل ڈالیں تاکہ ہم اپنے کھوئے ہوئے وقار کو پھر سے حاصل کرسکیں۔
ارباب اختیار کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم ماہانہ اربوں روپے صوبائی ارکان اسمبلی اورحکومت کے وزیروں ومشیروں پر خرچ کرتے ہیں جس کا حاصل حصول کچھ بھی نہیں ہے،اگر چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کا بھی شمار کریں تو یہ رقم اربوں سے بڑھ کر کھربوں روپے ماہانہ بن جاتی ہے اور اسی رقم کو سال پر محیط کیا جائے تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ ہم کس قدر خطیر رقم صرف صوبائی وزیر وں اور مشیروں کو پالنے پر خرچ کرتے ہیں۔
حاکم،عدلیہ،فوج اور میڈیا کا کردار ملک کے استحکام اور سلامتی و سالمیت کے لئے انتہائی اہم اور موثر ہوتا ہے اور امید ہے کہ یہ چاروں اہم ترین ستون ملک میں اصلاحت کی آبیاری کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ تاکہ مملکت پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکے اور کسی دوسرے ملک سے قرض مانگنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔