اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے پیش کردہ بجٹ کو مسترد کرتا ہوں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرحکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بجٹ افراط زر (11.5%) اور اقتصادی ترقی (5%) پر غیر حقیقی مفروضوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا SPI 24% بتاتا ہے کہ مہنگائی 25/30% کے درمیان ہوگی جو ایک طرف عام آدمی کو تباہ کر دے گی۔
We reject this anti people & anti business budget presented by Imported govt. Budget is based on unrealistic assumptions on inflation(11.5%) & economic growth(5%). Today’s SPI of 24% indicates that inflation will be between 25/30% which on the one hand will destroy the common man
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) June 10, 2022
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ دوسری طرف بلند شرح سود کی وجہ سے معاشی ترقی رک رہی ہے۔
کاروباری برادری نے وفاقی بجٹ کو عوام دوست قراردے دیا
عمران خان نے کہا کہ ہماری تمام ترقی پسند ٹیکس اصلاحات اور غریبوں کے حامی پروگرام جیسے کہ صحت کارڈ، کامیاب پاکستان کو روک دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک غیر تصوراتی، پرانا پاکستان بجٹ ہے جو قوم کے لیے مزید بوجھ اور مصائب پیدا کر رہا ہے۔
We reject this anti people & anti business budget presented by Imported govt. Budget is based on unrealistic assumptions on inflation(11.5%) & economic growth(5%). Today’s SPI of 24% indicates that inflation will be between 25/30% which on the one hand will destroy the common man
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) June 10, 2022
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








