روسی وزیر خارجہ نے ہٹلر کو یہودی قرار دیدیا، اسرائیل مشتعل

تازہ ترین

تازہ ترین

یوکرین کے صدر کو روس کی جانب سے ہٹلر کی اولاد اور ہٹلر کو یہودی کہنے پر اسرائیل کو تپ لگ گئی، روسی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے روسی وزیر خارجہ کے بیان پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں اپنے حریف یوکرینی صدر کو ہٹلر کی یہودی نسل کی اولاد قرار دیا تھا۔لاوروف نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پرتنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ زیلنسکی ایک یہودی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے ملک میں نازی عناصر نہیں ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ “اڈولف ہٹلر کا خون یہودی تھا۔” “اسرائیلی” وزیر خارجہ یائرلپیڈ نے روسی وزیر خارجہ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ “ناقابل معافی، رسوا کن اور ایک خوفناک تاریخی غلطی” ہے۔

عبرانی اخبار’ہارٹز کے مطابق لپیڈ نے زور دیا کہ ان بیانات پر روسی وزیر خارجہ کو معافی مانگنا ہوگی۔ لیپڈ نے کہا کہ یہ کہنا کہ ہٹلر یہودی تھا ایسا ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ یہودیوں نے خود کو مار ڈالا۔انہوں نے مزید کہا کہ نازیوں نے یہودیوں پر ظلم کیا اور نازی نازیوں کے سوا کچھ نہیں تھے۔

ہارٹز نے ہولوکاسٹ میوزیم کے سربراہ ڈینی ڈیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاوروف کے بیانات خطرناک اور قابل مذمت  ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاوروف نے یہ جھوٹا دعویٰ کر کے متاثرین کو مجرم بنا دیا ہے کہ ہٹلر یہودی نسل کا تھا۔

لاوروف نے اطالوی ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں مزید کہا کہ روس جوہری جنگ کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں سے باز نہیں آئے گا اور یہ کہ اس کا کیف حکومت کو تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ وہ صدر زیلنسکی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ شہریوں کو رہا کرنے اور مزاحمت روکنےکا مطالبہ کرتے ہیں۔

Related Posts