عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز اور حمزہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز اور حمزہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کردی
عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز اور حمزہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کردی

لاہور: لاہور کی خصوصی عدالت نے ہفتے کے روز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کردی۔

دونوں ملزمان کو دس دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

عدالت نے کیس کے دیگر ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی بھی توثیق کرتے ہوئے انہیں 200,000 روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

قبل ازیں عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت سمیت تمام درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی ضمانت کے حوالے سے عدالت کو سچ بتانے کا پابند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کا معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے چلنے والے کیس کی طرح ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ میرے خلاف مقدمات آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور رمضان شوگر ملز سے متعلق ہیں۔

اپنے خلاف نیب کی تحقیقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ نیبنے ان کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اس حقیقت کے باوجود کہ لاہور ہائی کورٹ نے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کے چیف جسٹس نے ان کے خلاف کرپشن کے ثبوت مانگے تھے جس کے بعد نیب ”گھبرا کر بھاگ گیا“۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایف آئی اے کی تحقیقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ”جب میں نیب کی حراست میں تھا تو ایف آئی اے نے دو بار مجھ سے ملاقات کی، لیکن میں نے اپنے وکیل کے ان پٹ کے بغیر جواب دینے سے انکار کردیا”۔

مزید پڑھیں:چودھری شجاعت حسین سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کو تمام حقائق زبانی طور پر فراہم کیے گئے تھے۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ”میرے مقدمات کا فیصلہ میرٹ پر ہوا، اور میں صاف نکل آیا۔”انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ رمضان شوگر ملز کے نہ تو ڈائریکٹر ہیں اور نہ ہی اسٹیک ہولڈر ہیں۔

Related Posts