جامعہ کراچی کی موجودہ قائم مقام انتظامیہ کے آنے کے بعد پہلے ASRB اجلاس میں 18 برس کے طویل وقفے کے بعد ایک Ph.D داخلے کو تین ماہ کیلئے بحال کیا گیا ہے اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر کے دور میں ASRB نے اپنے ہی بلیک لسٹ کردہ فدا محمد کو یورپین اسٹڈی کا ممتحن منتخب کر کے یو ٹرن لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
جامعہ کراچی سینٹر آف ایکسیلنس اِن میرین بیالوجی مستقل ڈائریکٹر سے محروم
جامعہ کراچی کی اساتذہ تنظیم ” معلم اتحاد برائے بہتر کارکردگی” (TAGG) سے تعلق رکھنے والے فزکس کے استاد کی ایما پر باٹنی کی اسسٹنٹ پروفیسر آمنہ احمد کو 2022 میں اعلی تعلیمی و تحقیقی بورڈ (ASRB) کے 14 مارچ 2022 کو منعقدہ اجلاس میں آئٹم نمبر 8(S-01) کے تحت 2004 کے داخلے کو 18 برس بعد مارچ 2022 میں 3 ماہ کیلئے فعال کر دیا تھا۔

اجلاس میں مذکورہ خلاف ضابطہ داخلے کی بحالی 29 مارچ 2022 سے تین ماہ یعنی 29 جون تک کیلئے کی گئی تھی۔ جس میں اساتذہ تنظیم TAGG کے سرگرم رہنما اور بایو کیمسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر شاہ عالی القدر کو عبوری ممتحن (انٹرنل ایگزامینر) بنایا گیا ہے، جبکہ طالبہ آمنہ احمد کا شعبہ باٹنی ہے اور ممتحن کا شعبہ بایو کیمسٹری ہے۔
واضح رہے کہ آمنہ احمد کا پہلا داخلہ ایم فل میں 2004 میں ہوا تھا جس میں وہ کورس ورک مکمل نہ کر سکیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے ایم فل کے کورس ورک کیلئے 2007 میں شرط عائد کی گئی تھی جبکہ مذکورہ طالبہ نے کورس ورک مکمل نہیں کیا۔ جس کے بعد اس نے دوسری بار 2011 میں دوبارہ داخلہ لیا جس کے باوجود کورس مکمل کئے بغیر 2018 میں داخلہ ایکسپائر ہوگیا۔
طالبہ نے دوسری بار ایم فل میں داخلہ لینے کے بعد ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی میں کنورٹ کرا لیا تھا۔ تاہم اس دوران 2016 میں لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا جس کے باوجود طالبہ اپنا کام مکمل نہ کرسکیں۔ اس دوران تیسری بار داخلہ لینے کی صورت میں طالبہ کو ایم فل تک محدود رہنا پڑتا جس کے خوف سے تیسری بار داخلہ کے پراسس میں پڑے بغیر اعلی سفارش پر خلاف ضابطہ طور پر 2018 میں داخلے کی مدت ختم ہونے کی تاریخ میں توسیع کرائی گئی۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








