آزادئ اظہارِ رائے

تازہ ترین

تازہ ترین

دنیا کے متعدد ممالک میں آزادئ اظہارِ رائے پر بے شمار قدغنیں لگائی جاتی ہیں جن میں ریاست کے من پسند چینلز کا راج، حکومت کے خلاف بولنے والوں کی زباں بندی، قتل اور اغوا سمیت دیگر اہم جرائم بھی شامل کر لیے جائیں تو آزادئ اظہار جرم بن کر رہ جاتا ہے۔

صحافی کا کام ہی عوام تک سچ پہنچانا ہوتا ہے۔ صحافی جب کوئی خبر اپنے نیوز چینل پر نشر یا اخبار میں شائع کرتے ہیں تو سچ عوام تک پہنچانے کی پاداش میں جرائم پیشہ افراد ان کی ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں یا پھر انہیں اغوا کر لیا جاتا ہے۔

گزشتہ روز سابق وزیر اعظم عمران خان کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ صحافی عمران ریاض کو اس پنجرے میں قید کیا گیا ہے جس میں مہذب ممالک جانور تک کو رکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔

عمران خان نے کہا کہ عمران ریاض کو زہر دئیے جانے کا شک ہے، ان تمام لوگوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے جو اس میں ملوث ہیں۔ لوگوں کی زبانوں پر خوف کے تالوں کی بجائے بدمعاشوں کے ٹولوں اور سرپرستوں پر عوام کا اشتعال بڑھ رہا ہے۔

بلاشبہ عمران ریاض خان نے اپنے یو ٹیوب چینل پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت میں متعدد ویڈیوز بنائیں اور موجودہ حکومت کے اقدامات کی مذمت بھی کی تاہم صحافیوں پر قدغنیں، ماورائے عدالت گرفتاری اور آزادئ اظہار پر قدغنیں کسی بھی حکومت کیلئے صراطِ مستقیم قرار نہیں دی جاسکتیں۔

اگر عمران ریاض حکومت کے خلاف زہر بھی اگل رہے تھے جس کی بفرضِ نمحال کوئی حقیقت نہیں تھی تو حکومت کو انہیں متعلقہ قانون کے تحت براہِ راست الزام عائد کرکے کارروائی کرنے کی ضرورت تھی، نہ کہ انہیں ماورائے عدالت گرفتار کرکے قید کر لیا جاتا۔

ماضی قریب میں عالمی سطح پر سعودی حکومت پر صحافی جمال خشقجی کے قتل کا الزام عائد کیا گیا جس میں ترکی، امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے بھی آوازیں اٹھائی گئیں۔

بین الاقوامی سطح پر پاکستان آزادئ اظہارِ رائے پر قدغنوں، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور بنیادی انسانی حقوق نہ دینے کے خلاف بھارت کی مذمت اور مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ 

میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاستدان، سماجی رہنما اور فنکاروں سمیت صحافیوں کے خلاف غیر قانونی کاموں میں ملوث لوگ یہ بات سمجھیں کہ آزادئ اظہارِ رائے ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ کوئی جرم نہیں۔ 

Related Posts