ڈالرکی بڑھتی ہوئی قدر، ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈالرکی بڑھتی ہوئی قدر، ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ
ڈالرکی بڑھتی ہوئی قدر، ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

لاہور: روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی انچی اُڑان کے باعث ملک بھر میں سنگین نوعیت کے آٹا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں پاکستانی تاجروں کو 370 ڈالر فی ٹن تک قیمت کی پیشکش کے باوجود پاکستانی امپورٹرز ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کے سبب گندم کی نجی درآمد سے گریزاں ہیں، سرکاری سطح پر گندم کی درآمد بھی نہایت سست روی کا شکار ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں ممکنہ طور پر تحریک انصاف کی حکومت تشکیل پانے کی امید میں پشاور کے فلورمل مالکان نے مہنگے داموں گندم کی خریداری روک دی ہے، انہیں امید ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی پنجاب سے خیبر پختونخوا کیلئے گندم آٹا کی ترسیل پر عائد پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:

ڈالر کو پر لگ گئے، قیمت 226 روپے تک پہنچ گئی

تاہم، پنجاب کی بیوروکریسی کو تشویش ہے کہ اگر بنا کسی چیک اینڈ بیلنس کے بغیر گندم آٹا پنجاب سے جاتا رہا تو جنوری 2023ء کی بجائے نومبر 2022ء میں ہی پنجاب آٹا بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جاری سیاسی عدم استحکام اور مستقبل میں حکومت قائم رہنے یا تبدیل ہونے کے ابہام نے ملک کی گندم آٹا مارکیٹ کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق حکومت کے دور میں کھاد بحران اور امدادی قیمت خرید کے اعلان میں تاخیر کے سبب ملک میں35 لاکھ ٹن گندم کی کم پیداوار ہوئی ہے جس کے سبب عمران خان حکومت اور بعد میں شہباز حکومت نے بھی30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب تک وفاقی حکومت ٹی سی پی کے ذریعے امپورٹ کی جانے والی دس لاکھ ٹن گندم میں سے مختلف ٹینڈرز میں 4 لاکھ ٹن سے زائد گندم امپورٹ کے معاہدے کر چکی ہے۔

Related Posts