آج دنیا بھر میں جس طرح سے حجاب کے حوالے سے مسلم خواتین کی جدوجہد جاری ہے اور وہ پابندیوں کے باوجود غیر مسلم ممالک میں حجاب پہننے کا حق حاصل کرنے کیلئے جس انداز میں آواز اٹھا رہی ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اکثریت کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ حجاب ہے کیا؟
حجاب کے لغوی معنیٰ دو چیزوں کے درمیان آڑ یا رکاوٹ کے ہیں جس کی وجہ سے دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اوجھل ہوجاتی ہیں۔
حجاب اسلامی شعار اور امت مسلمہ کا تشخص ہے اور اس کا مقصد ستر حاصل کرنا اور فتنے سے بچنا ہے۔
حجاب محض سر ڈھانپنے والا کپڑا نہیں بلکہ ایک مسلمان اور پاکیزہ عورت کی شناخت اور عصمت کا محافظ ہے، حقیقی حسن بے حیائی اور بے حجابی میں نہیں بلکہ حقیقی حسن وہ ہے جو آنکھوں کو حیا اور دل کو ایمان و تقویٰ سے معمور کرتا ہے. حجاب کا تعلق نظر،زبان اور لباس سے ہے۔
اگر ہم امت مسلمہ سے پہلی امتوں کے زوال کو دیکھیں تو ان میں سے بیشتر کے زوال کی وجہ حجاب کی پابندی نہ کرنا ہے۔ وہ بے حیائی میں اس حد تک مشغول ہوگئے تھے کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کا تقریباً سرے سے انکار ہی کردیا تھا۔ جب کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتایا ہے کہ: “عورت پوشیدہ چیز ہے۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگا رہتا ہے”
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ شیطان کس طرح سے اس معاملے میں شامل ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگاتے ہیں: جنت میں جب اللہ تعالی نے شیطان کو حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کے جرم میں جنت سے نکالنے کا حکم دیا تو ابلیس(شیطان) نے انسان کو قیامت تک گمراہ کرنے کی مہلت مانگی تھی اور کہا تھا کہ: “اے اللّٰہ تیری عزت کی قسم میں آدم اور اس کی اولاد کو گمراہ کرتا رہوں گا”۔ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام جنت میں زندگی گزار رہے تھے کہ ایک دن شیطان ان کے پاس پہنچ گیا۔ اس کا اصل مقصد انہیں بے پردہ کرنا تھا اور وہ اس میں کامیاب ہوگیا۔ اس حوالے سے اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ: “پھر شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ وہ ان کی شرمگاہوں کو بے پردہ کردے، جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھیں”. چنانچہ انہوں نے شرمندہ ہو کر اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپنا شروع کر دیا۔ شیطان کی پہلی ترجیح بے پردگی ہے۔ اس کا اولین مقصد دنیا میں فحاشی اور عریانی کو عام کرنا ہے۔ جیسے اہل یونان پر نفس پرستی اور شہوت کا اس قدر غلبہ تھا کہ وہ اس کو قابل فخر سمجھتے تھے. حتیٰ کہ حالات یہاں تک پہنچے کہ وہ قوم لوط کے عمل کی پیروی کی بنا پر قہر الہی کا شکار ہوئے، یونانیوں کا حال بھی کچھ کم نہ تھا جہاں بےحیائی نے مردوعورت کی تمیز کو ہی پس پشت ڈال دیا تھا اور پھر وہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو کئی معاشروں میں عورت کو صرف نفس کی بھوک مٹانے کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ یہ کہا جائے کہ عورت کو حیثیت اسلام نے دی ہے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے آکر عورت کو اس کا مقام دیا، اس کی حیثیت معاشرے پہ واضح کی، اس کو ایک ایسا محفوظ طریقہ کار بتایا جس میں وہ سب کی نظروں سے محفوظ رہ سکے۔ پس اب یہ عورت پہ منحصر ہے کہ”وہ سیپ کے موتی کی طرح محفوظ رہنا چاہتی ہے یا سب کی تفریح کا سامان بننا چاہتی ہے” عورت ایک انمول آبگینہ ہے۔ وہ ایک موتی ہے جس میں شرم و حیا مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ “جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو” یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ پردہ کرنے کا حکم صرف عورتوں کے لیے نہیں بلکہ یہ حکم مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے۔عورت کا اپنے جسم کو اس طرح سے چھپا لینا کہ اس کا بدن اور زینت اجنبی مردوں پر ظاہر نہ ہو، پردے کی تعریف میں آتا ہے اسی طرح مردوں کیلئے حکم ہے کہ اپنا جسم ناف سے لے کر گھٹنوں تک چھپائیں۔ موجودہ دور میں اگر نظر ڈالی جائے تو عورتوں کی حجاب کے حوالے سے جدوجہد اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ حجاب میں ہی عورت کی معراج ہے۔ جس طرح سے دنیا میں “اسلامو فوبیا” ایک مستقل اصطلاح بنتی جا رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے مسکان جیسی لڑکیوں کو سلام پیش کرنے کا دل چاہتا ہے کہ؛ ” جو اتنی پابندیوں کے باوجود بھی اپنے حق تعلیم کے حصول کیلئے حجاب کو اتارنا گوارا نہیں کرتیں” مسکان نے جو اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تھا وہ یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمارا دین کتنا خوبصورت ہے کہ جو عورت کو پردے کے ساتھ جنگ میں شمولیت سے بھی نہیں روکتا جس کی مثال دین اسلام کی مشہور صحابیات کے واقعات سے بھی ملتی ہے۔ جن میں سے حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کی بہادری کی مثالیں تو کتابوں میں بھی دی جاتی ہیں کہ جو ڈھاٹا باندھ کر بڑے بڑے دشمنوں کو ناکوں چنے چبوادیتی تھیں۔ ایسے میں حجاب کے ساتھ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے یا کسی بھی کام کو کرنے سے روکنا انتہائی غیر مناسب اور اسلام دشمن رویہ ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ جیسے یکم جولائی 2009 کو جرمنی میں روسی نژاد نسل پرست نے جرمنی کی بھری عدالت میں 18 دفعہ چھری کے وار کر کے ایک مسلمان خاتون مروہ شربینی کو شہید کر دیا تھا اوراس کربناک اوردلدوزواقعے پر جرمنی کی پولیس بھی منہ دیکھتی رہی، یہاں تک کہ جب مروہ کا خاوند اسے بچانے کے لیے آگے بڑھا تو پولیس نے خاوند کو بھی گولی مار دی۔ حجاب کے حوالے سے مسلم خواتین کو پریشان کرنے کے واقعات بے شمار ہیں۔ ہم خواتین کو کبھی مروہ قواچی کی صورت میں ملک بدر کیا گیا تو کبھی مروہ شربینی کی صورت میں قتل مگر حجاب کا عزم توانا سے توانا ہوتا جارہا ہے۔ پس ہمیں ان اسلام دشمن عناصر سے ڈر کر حجاب کو چھوڑنا نہیں بلکہ اسے اور عام کرنا ہے۔ آج بھی خواتین حجاب کے ساتھ ہر میدان میں آگے ہیں، حجاب زبردستی اور جبر کا نام نہیں بلکہ محبت، ترغیب اور تعلیم کا نام ہے کہ عورت کے احترام و عزت میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔