ڈپٹی اسپیکر کو الیکشن ریکارڈ سمیت سپریم کورٹ طلب کرلیا

تازہ ترین

تازہ ترین

مسلم لیگ ق کے ووٹ شمار ہونے چاہیے یا نہیں؟ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
مسلم لیگ ق کے ووٹ شمار ہونے چاہیے یا نہیں؟ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

لاہور: سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست کو قابل سماعت قرار دے کر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی، چیف سیکریٹری پنجاب سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرکے آج 2 بجے طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف اسپیکر پرویز الہی کی درخواست پر سماعت کی۔

پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیے کہ گزشتہ روز وزیراعلی پنجاب کا انتخاب ہوا جس میں حمزہ شہباز نے 179 اور پرویز الہی نے 186 ووٹ حاصل کیے ، لیکن ڈپٹی اسپیکر نے  چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کردیے۔

چیف جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری روایات یہی ہیں کہ پارلیمانی پارٹی ہی طے کرتی ہے کس امیدوار کو ووٹ ڈالنا ہے، ہم ڈپٹی اسپیکر کو ذاتی حیثیت میں سننا چاہتے ہیں، عدالت نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو الیکشن ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں:

پاکستانی عوام تمہارے ووٹ کی دوٹکے کی اہمیت نہیں ہے، خلیل الرحمان قمر

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی خلاف درخواست کو قابل سماعت قرار دے کر تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے حمزہ شہباز ،چیف سیکریٹری ، ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرکے آج 2 بجے طلب کرلیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے درخواست میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے آئین کے آرٹیکل 4، 5 اور 63 اے کی خلاف ورزی کی ہے اور اکثریتی رائے کیخلاف فیصلہ دیا، چوہدری شجاعت کا اصل خط بغیر کسی تصدیق کے ڈپٹی اسپیکر نے قبول کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور پارلیمانی لیڈر کی ہدایات نظر انداز کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

مدعی نے استدعا کی کہ عدالت رولنگ معطل کرکے حمزہ شہباز کو حلف اٹھانے اور وزیراعلیٰ کے اختیارات استعمال کرنے سے روکے۔

Related Posts