دوسری جنگ عظیم سے پیچھے کی دو تین سو سال کی دنیا وہ دنیا تھی جہاں مغرب کی مکمل اجارہ داری تھی۔ وہاں طاقتیں بدلتی رہی ہیں لیکن ایک کے بعد دوسری عالمی طاقت وہیں سے سامنے آتی رہی ہے۔ ان کی آپسی لڑائیاں اپنی جگہ مگر مغرب سے باہر کی دنیا کے لئے وہ ایک ہی تھے۔ اس یک رخی دنیا میں برطانیہ آخری عالمی طاقت ثابت ہوا تھا۔ دوسری جنگ عظیم برپا کرکے ہٹلر نے یہ مقام برطانیہ سے سے جرمنی کے لئے چھیننے کی کوشش کی۔ جس میں وہ آدھا تو کامیاب ہوا مگر آدھا ناکام رہا۔ کامیاب اس معنی میں کہ برطانیہ عالمی لیڈر نہ رہا۔ اور ناکام یوں کہ برطانیہ کا یہ مقام جرمنی کو نہ مل سکا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد کی دنیا دو بلاکس میں منقسم دنیا تھی۔ کچھ ممالک وہ تھے جو امریکہ کے کیمپ میں تھے جو اب برطانیہ کے بعد مغرب کا لیڈر بن چکا تھا۔ جبکہ کچھ ممالک وہ تھے جو سوویت یونین کے کیمپ میں تھے۔ اگرچہ کچھ ممالک ایسے بھی تھے جو ایک تیسرے کیمپ میں تھے۔ غیر وابستہ ممالک کا کیمپ۔ مگر ان میں سے بیشتر کہنے کو ہی غیر وابستہ تھے ورنہ ان کا واضح جھکاؤ وقتاً فوقتاً نظر آتا رہتا تھا۔ مثلاً بھارت بھی اس غیر وابستہ ممالک کے کیمپ سے تعلق رکھتا تھا مگر اس کا لین دین سوویت یونین کے ساتھ زیادہ تھا۔
اس ملٹی پولر ورلڈ میں کمزور ممالک کی حالت غیر تھی۔ جو ممالک امریکہ کے زیر اثر تھے وہاں امریکہ کی ڈکٹیشن چلتی جبکہ یہی صورتحال ان ممالک کی بھی تھی جو کمزور تھے اور سوویت کیمپ میں تھے۔ چنانچہ ان ممالک میں تخت الٹنے کا ایک مسلسل عمل ہی نظر نہ آتا بلکہ نافرمان حکمران کی پھانسی یا حادثاتی موت کا بندوبست بھی کردیا جاتا۔سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دس پندرہ سال تو امریکہ کی بے لگام چوہدراہٹ کے تھے۔ کیونکہ اسے لگا کہ سوویت یونین کے خاتمے نے پوری دنیا پر اس کی حکمرانی کا راستہ صاف کردیا ہے۔ اس کے تصور میں وہ اکیسویں صدی میں دنیا کا حاکم تھا اور مغربی ممالک اس کے وزیر و مشیر۔ مگر دو تین واقعات نے یہ خواب چکناچور کردیا۔
ایک یہ کہ وہ بے لگام سانڈ کی طرح افغانستان اور عراق میں جا گھسا جہاں اس کی ناک سے وہ لکیریں کھنچوائی گئیں کہ اس کے سپر پاور ہونے کا تصور ہی خاک میں مل گیا۔ دوسرا یہ کہ 1994ء سے مسلسل بڑی سطح پر اصلاحات کرنے والا چین اچانک ترقی کی شاہراہ پر بہت تیز رفتار ہوگیا۔ ایسے میں جب 2008ء کا عالمی مالیاتی بحران آیا تو افغان جنگ سے بدحال امریکہ اور اس کے اتحادی ایک بڑی آفت سے دوچار ہوگئے جبکہ عین یہی وقت تھا جب چین اپنی ترقی کی رفتار کو ٹربو گیئر لگا رہا تھا۔اور اسی دوران روس بھی اپنے قدموں پر کھڑا ہوچکا تھا۔ یوں اب یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ امریکہ اب اس حال میں نہیں رہا جب یہ زیر اثر ممالک کو ڈکٹیشن دیا کرتا تھا۔ اب اس کی حالت ایک بلیک میلر کی سی ہوگئی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ دنیا کے ہر ملک کی داخلی سیاست عالمی سیاست کے زیر اثر رہتی ہے کیونکہ جس طرح سماجی جاندار کی حیثیت سے کوئی انسان باقی انسانوں سے کٹ کر نہیں جی سکتا، اسی طرح کوئی ملک بھی باقی دنیا سے کٹ کر نہیں چل سکتا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو افغانستان کے موجودہ حکمران اسی امریکہ کی دوستانہ واپسی کے منتظر نہ ہوتے جس امریکہ سے وہ بیس سال لڑے۔وہ جن ممالک سے لڑے انہی ممالک سے اب ان کا مطالبہ ہے کہ ہمیں عالمی دھارے میں شامل کیا جائے۔ یہ مطالبہ وہ اسی لئے تو کر رہے ہیں کہ کوئی ملک دیگر ممالک پر انحصار کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ اور یہی وہ صورتحال ہے جو امریکہ کو بلیک میلنگ کی پاور دیتا ہے۔ اب چونکہ امریکہ کی حالت ڈکٹیشن دینے والی نہیں رہی تو وہ آپ کو اشارے کی زبان میں بس اتنا باور کرا دیتا ہے کہ من مانی کرنی ہے اور بالغ ہوئے بغیر جوش دکھانا ہے تو پھر مشکل میں ہم سے کچھ مانگنے مت آنا۔ اور جب آپ من مانی کر بیٹھتے ہیں اور آگے چل کر کہیں پھنس جاتے ہیں۔ تو پھر جب آپ اس سے مدد طلب کرتے ہیں تو وہ آپ سے کہتا ہے
“ہم نے کہا تھا نا کہ پھر ہمارے پاس مت آنا ؟ کیوں آئے؟”
اب چونکہ گئے آپ ہوتے ہیں سو وہ ڈیمانڈ لسٹ آگے رکھ دیتا ہے۔ یوں شروع ہوجاتا ہے آپ کی قومی غیرت کی گاڑی کے “ریورس” ہونے کا عمل۔ جذباتیت کا قومی غیرت سے کیا لینا دینا ؟ اس طرح کی غیرت یا تو برصغیر پاک و ہند کی فلموں میں ہی نظر آتی ہے۔ یا پھر فلموں سے باہر چرسیوں موالیوں میں۔ غیرت تو یہ ہے کہ سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے کہ میں محکوم کیوں ہوں ؟ جب آپ اسباب کی فہرست ترتیب دیدیں تو پھر دوسرا سوال یہ آجائے گا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے راستے کیا ہیں ؟اور جب وہ فہرست بھی بن جائے تو پھر ان دونوں فہرستوں کو پیش نظر رکھ کر خود انحصاری کا روڈ میپ ترتیب دیا جائے۔ اس روڈ میپ میں چھوٹے چھوٹے سنگ میل بھی ہوں اور منزل بھی۔ اور اس سفر کا سب سے اہم اصول یہ ہو کہ جب تک میں منزل پر نہ پہنچ جاؤں، کسی سے الجھوں گا نہیں۔ کیونکہ اگر میں نے ایسا کیا تو کسی بھاری نقصان کے سبب مجھے کئی سال پیچھے بھی جانا پڑسکتا ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو یہ تو طے ہے کہ سفر کی رفتار سست ہو جائے گی۔ ہمارت ہاں قیادت کی سطح پر یہ والی غیرت کسی میں نظر نہ آئی۔ 74 سالوں میں غیرت کا چورن بیچنے والے جتنے بھی آئے وہ یا تو سلطان راہی کے پرستار لگے یا پھر مصطفٰے قریشی کے۔
عزب مآب عمران خان ان میں سے سب سے بدتر ہیں۔ مثلاً یہی دیکھ لیجئے کہ عمران خان کے دور میں پاک سعودی تعلقات کی پوری تاریخ کا وہ بدترین لمحہ ہے آیا جب سعودی اس حد تک چلے گئے کہ صاف کہدیا
“ساڈے پیسے کڈو”
اور وہ آپ سے پیسے لے کر رہے۔ یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی ؟ کیونکہ خان صاحب یہ بھول گئے کہ پاکستان کی جیب میں جو گرمی ہے یہ پاکستانی روپے کی نہیں بلکہ سعودی ریالوں کی ہے۔ سو سعودیوں کو اپنے ریالوں کی فکر نہ تھی بلکہ وہ خان صاحب کو یہ سبق سکھانا چاہتے تھے کہ عالمی لیڈر بننے کا خواب وہی دیکھ سکتا ہے جس کی قومی جیب میں پڑے نوٹ اس کی اپنی کمائی کے ہوں۔ فقط ریال ہی واپس نہ لئے گئے بلکہ یہاں تک ہوا کہ جب ہمارے ایک طرم خان سعودی عرب گئے تو محمد بن سلمان نے گھاس ہی نہ ڈالی۔ چنانچہ طرم خان نے اپنے حصے کا سبق سیکھ لیا اور عمران خان فارغ کر دئیے گئے، لیکن خان صاحب نے کچھ نہ سیکھا۔ انہوں نے ایک بڑی سی کلہاڑی اٹھائی اور یہ کہہ کر اپنے پیروں پر دے ماری کہ میرے خلاف امریکہ نے سازش کی ہے۔
اور یہ دعویٰ تھا بھی ایک ایسا قطعی جھوٹ جس کا جھوٹ ہونا ثابت بھی ہوچکا۔ ان حالات میں ایک دن اچانک جنرل باجوہ سعودی عرب پہنچے تو سعودیوں نے انہیں اپنا سب سے بڑا سول اعزاز دیدیا۔ اور یہ کہہ کر دیا کہ یہ اعزاز پاک سعودی تعلقات بہتر کرنے پر دیا جا رہا ہے۔ اب سادہ سا سوال ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات تو اس سال اپریل تک کشیدہ تھے۔ تو پھر اپریل کے بعد ایسا کیا ہوا جس پر جنرل باجوہ اعلیٰ سول اعزاز کے مستحق ٹھرے؟ کارنامہ بس اتنا ہے کہ یہ نیوٹرل ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں توشے کی گھڑیوں تک پر ہاتھ صاف کرنے والا خود کو نہ بچا سکا۔
اب اس سے اگلا مرحلہ دیکھئے۔ چار روز قبل کی ہی انٹرنیشنل میڈیا کی خبر ہے کہ آئی ایم ایف نے سعودیوں سے کہا ہے کہ ہمارے ایک ارب ڈالر دینے سے تو پاکستان کو فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا کام تب بنے گا جب آپ بھی 4 ارب ڈالر دیں گے۔ اگر آپ چار ارب ڈالر نہیں دیتے اور ہم ایک ارب ڈالر دیدیں تو اس صورت میں ہمارے ایک ارب ڈالر ڈوب جائیں گے۔ لہٰذا آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کا چار ارب ڈالرز دینے کا ارادہ ہے ؟ اگر ہے تو ہم پھر اپنا والا ایک ارب آپ سے پہلے پاکستان کو دیدیتے ہیں۔ سعودیوں نے انہیں جواب دیا ہے کہ اگر عمران خان اقتدار میں آیا تو سعودی حکومت کسی صورت پاکستان کی مدد نہیں کرے گی۔ سو ان حالات میں عمران خان جلسہ جلسہ مارچ مارچ تو کھیل سکتے ہیں مگر اقتدار میں نہیں آسکتے۔
ان کا راستہ روکنے کے لئے کسی لمبے چوڑے کھیل کی ضرورت ہی نہیں۔ فری اینڈ فیئر الیکشنز ہوں۔ اور تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں تو عمران خان نواز شریف کے آگے ٹک ہی نہیں سکتے۔ اگر یہ نواز شریف کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے تو اعلیٰ سعودی سول اعزاز پانے والوں کو 2018ء کے انتخابات کے لئے محکمہ زراعت کی مدد سے سیاسی توڑ پھوڑ کیوں کرنی پڑتی ؟ پانامے کے کیس میں اقامے پر نااہلی کی راہ کیوں اختیار کرنی پڑتی ؟ اور جسٹس ثاقب نثار کے دور میں سپریم کورٹ آف پاکستان پی ٹی آئی کا انتخابی ہیڈ کوارٹر کیوں بنی نظر آتی؟ اس سب کے باوجود آر ٹی ایس کیوں بٹھانا پڑتا ؟ اور بعد از آرٹی ایس بھی حکومت مخلوط ہی کیوں بنتی ؟سو اگر ادارے ایک سائڈ پر ہوجائیں اور مقابلہ سیاستدانوں کے بیچ چھوڑ دیں تو محمد بن سلمان یہی سوچے گا کہ سول اعزاز ضائع نہیں ہوا۔ اور یہ بات خود خان کو بھی معلوم ہے کہ اداروں کے بغیر اس کا جیتنا محال ہے۔ اسی لئے تو وہ اب اداروں کو یہ تک باور کرانے لگے ہیں کہ یوٹرن اچھی چیز ہوتی ہے۔ آپ بھی یوٹرن لے لیں۔ اور خان صاحب بھول رہے ہیں کہ جرنیل ملٹری یا سول اعزاز لیتے ہیں، یو ٹرن نہیں۔ جنرل باجوہ نے لے لیا جو لینا تھا !