ٹک ٹاک اور نوجوان نسل

تازہ ترین

تازہ ترین

نوجوان کسی بھی ملک کا بہترین اثاثہ ہوتے ہیں، اگر کو ئی ملک بہتر کارگردگی کیلئے نوجوان نسل کا سہارا لے تو دنیا میں بہت زیادہ ترقی کرسکتا ہے۔ نوجوان نسل قوم کی ترقی اور بہتری کے لیے اپنا کردار بخوبی ادا کرسکتی ہے۔ لیکن ہمارے نوجوانوں نے اپنی ایک الگ ہی دنیا بسا رکھی ہے یہ وہ دنیا ہے جس کو مختلف کرداروں کی اداکاری اور موسیقی سے سجایا گیا ہے۔

یہ ٹک ٹاک کی دنیا ہے جس نے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنا عادی بنالیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پانچ سو ملین افراد ٹک ٹاک یوزرز بن چکے ہیں۔ ٹک ٹاک آج کے دور کی ایک ایسی ایپ ہے جس نے شیئرز اور لائیکس حاصل کرنے کی دوڑ میں نوجوان نسل کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے۔

عموماً ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانے والے کسی بھی شخص کا صرف یہی مقصد ہوتا ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ لائیکس ملیں اور اس کی ویڈیو زیادہ سے زیادہ شیئر کی جائے۔ چاہے اب اس دوڑ میں لڑکا لڑکی کو جتنی نازیبا حرکتیں کرنی پڑجائیں، وہ موسیقی کے نشے کو اپناتے ہوئے اپنی ویڈیو تیار کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ 3 سے 4 منٹ یا 4 سے 6 منٹ کی ویڈیو کو ہمارے نوجوان اداکاری کرکے اور موسیقی کے رقص سے بھر کے تیار کرتے ہیں اور اس کو تفریحی پیغام بناکر آگے وائرل کرنے میں لگ جاتے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کا قیمتی سرمایہ یعنی نوجوان اس بات سے مکمل طور پر لاتعلقی اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ زیادہ تر ویڈیوز بے حیائی کے علاوہ اور کوئی پیغام نہیں دیتیں۔ جن ویڈیوز میں لڑکا لڑکی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پیار محبت اور دل لگی کا اظہار کررہے ہیں، وہ محض بے حیائی کو دعوت دینے اور اس کو عام کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ٹک ٹاک کی بے شمار ویڈیوز ایسی ہیں جس میں مسلم معاشرے کی لڑکیاں بے تحاشہ بناؤ سنگھار کرکے مختلف عنوانات پہ ویڈیوز بناتی ہیں اور وہ شاید قرآن مجید کی اس آیت سے بے خبر ہیں۔

“اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو۔ غیر مردوں کو بناؤ سنگھار نہ دکھاتی  پھرو، جیسا کہ پہلے جاہلیت کے دور میں دکھایا جاتا تھا۔”
(سورۂ احزاب)

نوجوانوں میں مقبول ٹک ٹاک کی ویڈیوز نے بڑوں کا ادب و لحاظ  اور  بزرگوں کا احترام ختم کردیا ہے۔ اس بے لگام تفریح نے انتہائی بے حسی کو جنم دیا اور نوجوانوں میں تعلیم سے دلچسپی ختم کرکے انہیں اِن ویڈیوز کے ذریعے پیسہ کمانے میں لگا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسٹیج ڈراموں کی گھٹیا ترین جگتوں کو دہرایا جارہا ہے۔ ٹک ٹاک ایک ایسی ایپ ہے جس میں لائیو کی سہولت بھی موجود ہے لہٰذا رات بھر محفل سجانے کے چکر میں رومانوی اور فحش گفتگو کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

میری امت کے کچھ لوگ شراب نوشی کرینگے مگر اس کا نام بدل کر، ان کی مجلسیں راگ، باجوں اور گانے والی عورتوں سے گرم ہونگی ۔ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔”

(ابو داؤد، ابن ماجہ )

معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں رہنے والے نوجوانوں کو ٹک ٹاک اسٹارز کے بارے میں خوب معلومات ہوتی ہے لیکن ہمارے صحابہ کرام کے بارے میں کوئی معلومات اور ان کے بارے میں جاننے میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ حد تو یہ ہے کہ آج کل کے ٹک ٹاکر اسٹارز عبادتوں کی ویڈیوز بھی اپلوڈ کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح ٹک ٹاک پہ وائرل ہوجائیں۔

ہماری نوجوان نسل میں ٹک ٹاک کی وجہ سے بگاڑ بڑھتا جارہا ہے اور وہ اس وقتی تفریح میں اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں جو ان کے مستقبل کے لیے کوئی مثبت رجحان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اگر نوجوان نسل کو ٹک ٹاک کے منفی استعمال سے روکا نہ گیا تو ہمارا معاشرہ ایک بہت بڑے بگاڑ کی طرف بڑھتا چلا جائے گا جو پاکستان جیسے معاشی مسائل کا شکار ملک کی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

Related Posts