سیلابی تباہی میں تعلیم کا حصہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ہمارا آبائی وطن خیبر پختون خوا کے ضلع تور غر کی دریائی جانب ہے۔ شہری یا میدانی علاقے کے لوگ شاید اس کیس میں “دریائی جانب” کی درست معنویت تک نہ پہنچ سکیں سو عرض کردیں کہ شانگلہ اور مانسہرہ کے بیچ ایک بلند و بالا پہاڑ ایسا بھی ہے جو سیاہ رنگ کا ہے۔

اگر آپ اسے گوگل ارتھ سے دیکھیں تو اس پورے علاقے میں یہ واحد پہاڑ ہے جو سیاہ رنگ کا ہے۔ یہ اس علاقے کے دیگر پہاڑوں کی طرح زرخیز اور ہرا بھرا پہاڑ ہے مگر اس کی چٹانیں گہری سیاہ اور مٹی سیاہی مائل ہے۔ اسی نسبت سے اسے تور غر یعنی سیاہ پہاڑ کہا جاتا ہے۔ اس پہاڑ کی بائیں جانب اس کا جنوبی نشیب جبکہ دائیں جانب اترائی میں وہ وادی ہے جس میں دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔ پہاڑ کے یہ دونوں ہی اطراف ضلع تور غر ہیں مگر ایک جانب کے لوگوں کو اگر دوسری جانب کے لوگوں سے ملنا ہو تو انہیں طویل سفر کرکے اس پہاڑ کا طواف کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح کی سڑکیں آپ کو کشمیر، مری، سوات، چترال وغیرہ کے پہاڑوں پر نظر آتی ہیں کہ نہایت بلندی پر جاکر پہاڑ عبور کر لیا وہ اس پہاڑ پر ایک بھی نہیں ہے۔ یوں گویا اس ضلع کے یہ دونوں اطراف عملاً ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں۔

مگر ایک بہت بڑا فرق اور بھی ہے۔ اس ایک ہی ضلع کی دونوں جانب سہولیات کی صورتحال بعینہٖ وہی رہی ہے جو مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں تھی۔ یا جو لاہور اور بلوچستان کے کسی پسماندہ ضلع کے مابین ہوسکتی ہے۔ سبب اس کا یہ بنا کہ ابتدا میں یہ علاقہ ضلع ہزارہ کا حصہ تھا۔ چونکہ اس کا صرف جنوبی حصہ ہی مانسہرہ اور ایبٹ آباد کی رسائی میں تھا تو یہاں سڑکیں، اسکول، کالجز، ہسپتال اور بجلی سمیت تمام سہولیات دستیاب تھیں۔ جبکہ اس ملک کے نام نہاد جمہوریت پسند لیڈروں کے لئے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ تور غر کی دریائی جانب کی پوری وادی میں پہلی بار کچی سڑک بھی جنرل ضیاء کے دور میں اس وقت کے گورنر جنرل فضل حق نے 1985ء میں بنائی۔ اس سڑک نے باقاعدہ پختہ ہی بننا تھا مگر جنرل ضیاء کی شہادت کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں نے اس پروجیکٹ کو بند رکھا۔ ظاہر ہے یہ سڑک بھی “ضیاء کی باقیات” کا ہی سٹیٹس پا گئی تھی۔ اب یہ اندازہ آپ خود ہی لگا لیجئے کہ جس علاقے میں سڑک ہی نہ ہو، وہاں ہسپتال چھوڑئیے، کلینک بھی ہوسکتا ہے؟ کالج یا یونیورسٹی چھوڑیئے پرائمری سکول بھی ہوسکتا ہے ؟ اس بد نصیب سڑک کی قسمت تب جاگی جب ملک پر اگلا آمر مسلط ہوا۔ یوں جنرل مشرف کے دور میں پہلی بار اس سڑک نے تارکول کا ذائقہ چکھا۔

اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ اس علاقے کی نسبت سے ہمارے جمہوری پیمبروں کی نا انصافی کا پورا چہرہ آپ دیکھ چکے تو فلم ابھی باقی ہے میرے دوست۔ جو ہم اب آپ کو بتانے جا رہے ہیں بے حسی اور سنگدلی تو اس سے آپ پر واضح ہوگی۔ ضلع تور غر کی شمالی جانب بہتے دریائے سندھ پر تربیلہ ڈیم تعمیر ہوا ہے۔ اس ڈیم کی جھیل پیک ٹائم میں اس وادی میں ساٹھ سے ستر کلومیٹر تک آجاتی ہے۔ گویا اس ڈیم میں جو زمینیں ڈوبی ہیں وہ تور غر کی شمالی وادی کی ہی ہیں۔ جب یہ ڈیم مکمل ہوگیا تو اس سے بننے والی بجلی کراچی کے ساحل تک تو 70 کی دہائی میں ہی پہنچ گئی۔ مگر جانتے ہیں اس بدقسمت وادی میں پہلی بار برقی قمقمہ کب روشن ہوا ؟ 2004ء میں روشن ہوا۔ اور بجلی کی یہ فراہمی بھی ہمارے چوتھے آمر جنرل مشرف نے ممکن بنائی۔ یوں گویا بلب، برقی پنکھا، ریفریجریٹر، ٹی وی، اور دیگر برقی اشیاء اس وادی میں پہلی بار 2004ء میں پہنچیں۔ یہاں جنرل فضل حق کے دور میں ہی مختلف مقامات پر تین تین کمرے تعمیر ہوئے تھے۔ خیال یہ تھا کہ ان کا سڑک والے پروجیکٹ سے ہی کوئی تعلق ہے مگر پروجیکٹ بند ہونے کے کافی عرصہ بعد پتہ چلا کہ یہ اس علاقے کے پہلے پرائمری سکول تھے۔ یہ خالی کمرے متعلقہ گاؤں کے بااثر افراد کے مویشیوں کے کام آئے۔ جنرل مشرف کے دور میں پتہ چلا کہ ان اسکولوں کے لئے اساتذہ کا تقرر ہوگیا ہے۔ مگر شکل ان کی کبھی کبھار ہی نظر آتی تھی۔ جبکہ پرنسپل لفظ تو ابھی تور غر کی ڈکشنری میں شامل ہونا باقی ہے۔ ڈکشنری پر چڑھے گا تو یہ ہستی بھی کسی روز نظر آجائے گی۔

ایک وقت ایسا تھا کہ تور غر اور بٹگرام ضلع مانسہرہ کا حصہ تھے۔ پھر یہ ضلع دو حصوں میں تقسیم کرکے ضلع بٹگرام کو وجود بخشا گیا۔ ہمارے ساتھ ایک سنگین مذاق یہ کردیا گیا کہ تور غر سے صرف 25 کلومیڑ کے فاصلے پر ضلع بٹگرام کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ مگر ہمیں ضلع بٹگرام کا حصہ بنانے کی بجائے ایک سو دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مانسہرہ کا حصہ بنا دیا گیا۔ یوں گویا جب ہمیں اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹر جانا ہوتا صرف پچیس کلومیڑ کے فاصلےپر واقع ضلع بٹگرام کے ضلعی ہیڈ کوارٹر کے بیچوں بیچ سے گزر کر 80 کلومیٹر کا مزید سفر کرکے اپنے ضلعی ہیڈکوارٹر پہنچتے۔ مگر خدا جزائے خیر عطاء فرمائے بابا حیدر زمان کو کہ یوسف رضاء گیلانی کے دور میں ہزارہ صوبہ کی تحریک اٹھا دی۔ تور غر چونکہ 100 فیصد پشتون ایریا ہے۔ اور ایریا بھی وہ جس کی دریائی جانب والی وادی کو “ہوم لینڈ آف یوسفزئی ٹرائب” کہا جاتا ہے۔ یہاں یوسفزئی قبیلے کی چاروں ذیلی شاخیں صدیوں سے آباد ہیں۔ سو ہزارہ صوبہ تحریک ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی تھی۔ یہ تحریک ایسے موقع پر شروع ہوئی تھی جب صوبائی حکومت اے این پی کی تھی۔ چنانچہ ہمارے لوگوں نے فوری طور پر اس حکومت کو آگاہ کیا کہ ہیں ہم پشتون اور حصہ ہم اس ضلع مانسہرہ کا ہیں جو ہندکو بولنے والوں کا گڑھ ہے۔ لہٰذا ہمیں فوری طور پر اس ضلع سے الگ کیا جائے۔ ورنہ ہزارہ صوبہ اگر سنجیدہ معاملہ بن گیا تو اس خیالی صوبے میں ہماری حیثیت ایک اقلیت سے زیادہ کچھ نہ ہوگی۔ اس وقت کے وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے اس پر پھرتی دکھائی اور قسمت یوں بھی اچھی رہی کہ زرداری صاحب صدر پاکستان تھے جو چھوٹے صوبوں اور چھوٹی قوموں کے مسائل کا شعور رکھتے ہیں۔ چنانچہ 2011ء میں لگ بھگ راتوں رات ہی ہمیں ضلع مانسہرہ سے الگ کرکے ضلع تور غر کے طور پر مستقل شناخت دیدی گئی۔

آہ ! ہم سے ایک غلطی ہوگئی۔ ہمیں بابا حیدرزمان سے قبل سوات والے فسادیوں کا شکریہ ادا کرنا تھا مگر ذہن میں نہ رہا۔ ان کا شکریہ یوں کہ ہمارا علاقہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی علاقہ غیر چلا آرہا تھا۔ چونکہ سرکار نے وہاں سڑک تک بنانے کی زحمت گوارہ نہ کی تھی سو یہ ایک ناقابل رسائی علاقہ تھا۔ قانون، جج، تھانہ، اور جیل وہاں وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔ مشرف دور میں سڑک پختہ ہونے کے بعد بھی یہاں پولیس، تھانہ وغیرہ کا وجود نہ تھا۔ یعنی عملاً یہ علاقہ غیر ہی تھا۔ سو جب سوات میں آپریشن شروع ہوا تو وہاں سےفسادی پناہ لینے کے لئے یہاں آ پہنچے۔ یوں سرکار کو خیال آیا کہ اس علاقے کا اسٹیٹس بدلنا ہوگا۔ جلد ہی یہاں پولیس کا بندوبست کرکے قانون کی عملداری قائم کردی گئی۔ اور ضلع بننے کے بعد تو صورتحال مزید بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے۔ سو ہمیں پورا یقین ہے کہ اگر بابا حیدرزمان اور سوات کے مفسد سرگرم نہ ہوتے تو ہم آج بھی نظر انداز ہی رہتے۔ لہٰذا ہم ان دونوں قوتوں کے دل و جان سے شکر گزار ہیں۔

اب آجایئے اس بات کی جانب جسے سمجھانے کے لئے یہ مفصل پس منظر پیش کرنا ناگزیر تھا۔ اس پورے پس منظر سے آپ نے یہ اندازہ بخوبی لگا لیا ہوگا کہ ترقی یافتہ دور میں ضلع تور غر کی یہ دریائی جانب لگ بھگ پتھر کے دور میں ہی رہی ہے۔ اس نہایت پسماندہ علاقے میں تعلیم کی صورتحال یہ رہی کہ دس پندرہ سال قبل تک ہر گاؤں کے مولوی صاحب کی ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ گاؤں میں کسی کا خط آجائے تو اسے خط پڑھ کر بھی سنائیں اور پھر جواب خط بھی لکھ کر دیں۔ مگر اس علاقے کے حوالے سے ایک خبر ایسی ہے جو آپ نے 75 سال میں ایک بار بھی نہ سنی ہوگی۔ آپ نے یہ خبر کبھی نہ سنی ہوگی کہ “تور غر میں دریائے سندھ نے تباہی مچادی” سوال یہ ہے کہ کیا اس ضلع سے گزرتے ہوئے یہ دریا صوفی بن جاتا ہے یا یہ یہاں مرعوب کرنے کے بجائے خود مرعوب ہوجاتا ہے ؟

ایسا کچھ نہیں ہے۔ موسم گرما اور بالخصوص مون سون میں اس کی چنگھاڑ پوری وادی پر حاوی ہوتی ہے۔ اور یقین جانئے اسے دیکھنے والا واقعتاً اس سے مرعوب ہوجاتا ہے۔ اس ضلع میں اگر یہ انسانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا پاتا تو اس کی بس ایک وجہ ہے۔ اور وہ ہے اس ضلع کے لوگوں کی “جہالت” چونکہ یہ جاہل ہیں مگر صدیوں سے دریا کے کنارے رہتے آئے ہیں اس لئے ان کا شعور یہ ہے کہ موسم گرما میں دریا سے پنگا لینا ٹھیک نہیں۔ یہ ان کے اس مبنی بر جہل شعور کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پوری وادی میں ایک بھی گاؤں، یا عمارت ایسی نہیں جس تک دریا انتہائی بدترین سیلابی صورتحال میں بھی رسائی حاصل کرسکے۔ ہر گاؤں دریا سے کم از کم بھی ہزار میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ مگر ہمیں لگتا ہے پندرہ بیس سال بعد یہ صورتحال بدل جائے گی۔ کیونکہ اب یہاں تعلیم آرہی ہے۔ ہم ہمیشہ تعلیم کے مثبت اثرات کو ہی زیر بحث لاتے ہیں۔ کبھی روسو کی طرح اس کے منفی اثرات کو بھی زیر بحث لائے ہوتے تو ہم بھی ایک مقالہ اس نوع کا لکھتے کہ تعلیم نے انسان کو فائدہ کم نقصان زیادہ پہنچایا ہے۔

سو ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ جب ہمارے اس علاقے میں تعلیم پوری طرح اثرات مرتب کرچکے گی تو پھر لوگ سوچیں گے کہ کیوں نہ اس علاقے میں ٹورازم کو فروغ دلوایا جائے ؟ جب وہ اس کا آغاز کریں گے تو اولین ترجیح کے طور پر عین دریا کے کنارے ہوٹل اور ریستوران کی قطاریں قائم کردیں گے۔ تاکہ سیاح اپنے کمرے سے نکلیں تو بس دس قدم کے فاصلے پر دریا میں اتر سکیں۔ دریائے سندھ سے بہت کمتر درجے کے دریائے سوات نے اگر تباہی مچائی ہے تو بس اس لئے کہ سوات میں تعلیم ہمارے علاقے سے بہت قبل پہنچ گئی تھی۔ یہ تعلیم کا ہی نتیجہ ہے کہ دریائے سوات پر ناجائز تجاوزات کی بھرمار ہے۔ یہ تجاوزات نہ ہوتیں تو دریائے سوات کی صورتحال بھی آج کی تاریخ میں وہی ہوتی جو دریائے سندھ کی ہمارے ضلع میں ہے۔ ہمارے ضلع سے نکلتے ہی یہ ان اضلاع میں داخل ہوتا ہے جو تعلیم یافتہ ہیں چنانچہ یہ تباہی بھی وہیں مچاتا ہے۔

للہ اب یہ کہہ بیٹھئے گا کہ ناجائز تجاوزات تعلیم نہیں بلکہ کرپشن کا نتیجہ ہیں۔ آپ اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے کہ تباہ کن درجے کی کرپشن صرف تعلیم کے زور پر ہی ممکن ہے۔ ورنہ ہمارے ضلع کے لوگ نہ تو فرشتے ہیں اور نہ ہی اولیاء اللہ۔ وہ بھی کرپشن کرتے ہیں۔ مگر جہل کی کرپشن تعلیم والی میگا کرپشن کے سامنے وہی حیثیت رکھتی ہے جوقطرے کی دریا کے حضور ہے۔ سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ انسان اپنی نفسیاتی ساخت میں ایک نہایت مہلک جاندار ہے۔ اسے قابو میں رکھنے کے لئے قانون کے سوا کوئی دوسری چیز آج تک بنی نوع انساں دریافت نہ کرسکی۔ اگر قانون کی عملداری نہ ہوئی تو تعلیم اسے مزید تباہ کن بنا دے گی۔ جو تباہی یہ تعلیم کے زور پر مچائے گا اسے سمیٹنا بھی دشوار تر ہوگا۔ آپ یہی دیکھ لیجئے کہ امریکی قوم دنیا کی سب سے تعلیم یافتہ قوم ہے۔ چونکہ امریکہ کسی عالمی قانون کے قابو میں نہیں بلکہ عالمی قوانین اس کے قابو میں ہیں تو نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے 200 سال میں سب سے زیادہ انسانی خون اسی نے بہایا ہے۔ سو قانون کی عملداری سے آزاد معاشرے کے لئے تعلیم بربادی کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتی۔

Related Posts