پی ٹی آئی نے اپنے دورِ اقتدار میں جو فیصلے کیے اس پر افسوس ہے، شاہد خاقان عباسی

تازہ ترین

تازہ ترین

شاہد خاقان عباسی
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے دورِ اقتدار میں جو فیصلے کیے اس پر افسوس ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 4 سال معاہدوں کو توڑا اور شوکت ترین نے آخری معاہدے کو نہ صرف توڑا بلکہ ملک کو مشکل میں ڈالا۔ پی ٹی آئی نے وہ کیا جو دنیا کے امیر ترین ملک نہیں کرسکتے اور پیٹرول کی قیمت کو کم کیا۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت جو بڑھنی چاہیے تھی وہ جان بوجھ کر نہیں بڑھائی گئی جبکہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کی بجائے جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے پر اکتفا کیا گیا۔ ہم بھی اگر وہی طریقہ اپناتے تو معاملات کو مزید خراب کر کے چلے جاتے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین مختلف جماعتوں میں رہے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا وقت نہیں آیا کہ مشکل فیصلے کیے لیکن مفتاح اسماعیل نے جس لگن سے کام کیا وہ تاریخی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ، وزیر اعظم نے عملدرآمد کی منظوری دیدی

ن لیگی رہنما نے کہا کہ ہم حقائق سے ملکی ضروریات سے خود کو علیحدہ نہیں کر سکتے لیکن پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں جو فیصلے کیے اس پر افسوس ہے۔ سابق وزیرخزانہ کی گفتگو کا مقصد آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری حاصل نہ کرنا تھا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ سے وزیر خزانہ پنجاب نے یہ بھی پوچھا ریاست پر کیا اثر پڑے گا اور جو کچھ وزیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ملک سیلاب سے متاثر ہے اور ہمیں اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی سوچ یہی رہی کہ اپنی سیاست بچاؤں، جعلی پرچے بن سکتے ہیں اس میں دیر نہیں لگتی لیکن ہم نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ نواز شریف کے لیے کوئی اور معیار نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:

سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے 518 افراد جاں بحق، 15ہزار سے زائد زخمی

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جس نے وہی جرم کیا ہے تو سزا بھی وہی ہونی چاہیے لیکن آج وقت پرچے درج کرنے کا نہیں بلکہ متاثرین کے مسائل حل کرنے کا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے کم ٹیکس اس وقت پیٹرول پر ہے۔

Related Posts