سیاست کسی محدود سوچ یا نظرئیے کیلئے بنائے گئے دائرے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک وسیع المعنی لفظ ہے جو ہم دنیا بھر میں کسی بھی انسان، گروہ یا اجتماع کی بنائی گئی اس پالیسی کیلئے استعمال کرتے ہیں جس کا مقصد اپنی بالادستی کو یقینی بنانا ہو۔
اگر ہم اپنی بالادستی کو یقینی بنانا کے الفاظ کا جائزہ لیں تو احساس ہوتا ہے کہ سیاست صرف اپنے مفادات کا حصول ہے اور غور کیجئے تو پاکستان سمیت جنوبی ایشیا، یورپ اور دیگر براعظموں میں پائے جانے والے ممالک کی سیاست صرف اور صرف اسی نکتے کے گرد گھومتی ہے جسے ہم قومی مفادات کا تحفظ قرار دے سکتے ہیں۔
ہم اگر لفظ سیاست کی مزید تعریفوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ سیاست کسی ملک یا علاقے کی ایسی سرگرمیوں کو کہتے ہیں جو اقتدار کے متعلق ہوں اور خاص طور پر اس میں اقتدار کے شراکت دار فریقین کے مابین بیان بازی کو اہمیت حاصل ہے جنہیں آج کل ہم سیاسی جماعتوں کے نام سے جانتے ہیں۔
بہت سے مفکرین نے سیاست کی تعریف اپنے اپنے انداز میں کی ہے۔ ایک تعریف کے مطابق سیاست کسی بھی ریاست، علاقے یا شہر کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے یا اس کی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے کی جانے والی سرگرمیوں کا نام ہے۔
گویا سیاست کا انحصار ہی اقتدار کے حصول اور اسے بہتر بنانے، مفادات حاصل کرنے اور انہیں تقویت دینے پر ہوتا ہے اور اگر ہم سیاستدانوں کے متعلق کوئی ایسی بات سنیں کہ فلاں سیاسی رہنما نے صرف اقتدار کے حصول کیلئے اپنے کسی اصول کو نظر انداز کردیا تھا تو ہم اس پر تنقید کرنے لگ جاتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ وہ سیاست کر کیوں رہا تھا؟ اس کا تو مقصد ہی اقتدار تھا، اگر حاصل کیا تو کیا برائی تھی؟
آج آپ جس بھی سیاسی رہنما سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا آپ اقتدار کے حصول کیلئے سیاست میں آئے تھے؟ تو وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ جی ہاں، سیاست تو نام ہی اسی چیز کا ہے، بلکہ جھوٹی تاویلیں گھڑتا اور بہانے بناتا ہے۔ سب سے بڑا جھوٹ یہ بولا جاتا ہے کہ ہم عوام کی خدمت کیلئے سیاست میں آئے جو بلاشبہ ایک سفید جھوٹ ہے۔
جب بھی کوئی سیاسی رہنما پوری تاریخِ انسانیت کا یہ سب سے بڑا جھوٹ بولتا ہے تو اسے سراہا جاتا ہے، کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ کو عوام کی خدمت ہی کرنی تھی تو سماجی رہنما بن جاتے، کوئی فلاحی ادارہ کھول لیتے۔ خدمت ہی کرنی تھی تو کوئی ہسپتال، اسکول یا لیبارٹری کھول کر عوام کو اپنی خدمات مفت یا کم داموں پر مہیا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہوتا۔ سیاست میں آ کر عوام کا وقت کیوں برباد کیا؟
موجودہ دور میں سیاست سے دلیل کا عنصر بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ ایک سیاستدان دوسرے بڑے سیاستدان کو اپنا رہنما کہتا ہے اور اس کی کہی گئی ہر بات کو جائز، درست اور حقیقت پر مبنی قرار دیتا ہے، اس کی جھوٹی تعریفیں کرتا اور قصیدے پڑھتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے چھوٹے درجے پر کام کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کا رویہ ہی دیکھ لیجئے۔
کوئی پوچھے کہ آپ پیپلز پارٹی یا تحریکِ انصاف کا حصہ کیوں بنے؟ تو جواب ملتا ہے کہ میں آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، بے نظیر یا پھر عمران خان کے نظرئیے سے متاثر ہو کر اس تحریک کا حصہ بنا ہوں۔ کوئی حقیقی مقصد نہیں بتاتا کہ آج کل ہوا ہی اس پارٹی کی چلی ہوئی ہے۔ اس میں اس لیے شامل ہوا تاکہ مجھے صوبائی یا قومی اسمبلی کی نشست یا پھر وفاقی وزیر کا عہدہ مل جائے۔
دلیل کا بہت بڑا فقدان اس وقت نظر آتا ہے جب کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنما اپنے لیڈر کی تعریف کرتے ہیں یا اس کے کارنامے گنوانے لگتے ہیں۔ مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ لوگ ان کے رہنما کو اپنا رہنما سمجھیں اور زیادہ سے زیادہ ووٹ ان کی جھولی میں ڈال دیں۔ کیا آپ نے عوام کو بے وقوف سمجھا ہوا ہے؟
یہاں ہمارا مقصد یہ نہیں تھا کہ سیاستدانوں پر بلا ضرورت اور بے دلیل تنقید کی جائے بلکہ صرف اتنا تھا کہ سیاست میں دلیل کی اہمیت کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ اگر آپ کو اپنے لیڈر کی تعریف ہی کرنی ہے تو حقائق اور اعدادوشمار سامنے رکھئے۔ لوگوں کو وہ کارنامے گنوائیے جو واقعی آپ کے لیڈر نے کیے ہوں، نہ کہ دوسروں کے کارناموں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا فرض نبھاتے پھریں۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں