دین کا دینداروں سے کوچ کر جانا

تازہ ترین

تازہ ترین

امام غزالی رحمہ اللہ ہماری 1400 سالہ تاریخ میں واحد ہستی ہیں جو مجدد فی العلم ہیں۔ آپ کے مجدد فی العلم بننے کی صورت کچھ یوں بنی کہ اکیس بائیس برس کی عمر میں جامعہ نظامیہ بغداد پہنچے۔

جامعہ نظامیہ تاریخ اسلام کا اپنی نوعیت کا سب سے منفرد اور سب سے بڑا تعلیمی ادارہ تھا جو شہرہ آفاق سلجوقی وزیر اعظم نظام الملک الطوسی نے قائم کیا تھا ۔ امام غزالی نظامیہ میں بطور ڈین آئے۔ اور چند ہی ماہ میں اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ ایسا نہیں تھا کہ کسی اور مدرسے نے انہیں زیادہ بہتر پوزیشن اور موٹی تنخواہ آفر کردی تھی یا یہ کہ انہوں نے سوچا کہ دین کا کام کرنے کا جو مزہ چندے مانگنے میں ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں۔ لہٰذا اب میں چندے مانگ کر اپنا مدرسہ قائم کروں گا، جہاں شیخ الحدیث اور ناظمین تو خوار فقیر رہیں گے مگر میں اور میرے بچے عیش و عشرت کریں گے۔

نظامیہ کی صورتحال دیکھ کر امام غزالی ایک بڑے اندرونی بحران سے دوچار ہوگئے تھے۔ جس کی شدت کا اندازہ آپ اسی سے لگا لیجئے کہ آپ نظامیہ سے نکلے تو سیدھے حیبرون میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر مبارک پر گئے۔ اور وہاں کچھ اس مفہوم پر مشتمل الفاظ ادا کئے کہ:

اے اللہ کے خلیل ! ہم سے ایک بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ ہماری دینی تعلیم سے دین باہر ہو گیا ہے۔ اب میں اپنی زندگی اس صورتحال کو بدلنے کے لئے استعمال کروں گا، میری دستگیری فرما دیجئے۔

یہاں سے امام غزالی سیدھا اپنے گاؤں طوس گئے۔ وہاں اپنے چھوٹے بھائی احمد غزالی کے ہاتھ پر بیعت کرکے انہیں اپنا مرشد بنا لیا۔ اور گاؤں میں ہی بچوں کو ناظرہ قرآن مجید پڑھانا شروع کیا۔ ذرا آپ آج کے کسی شیخ الحدیث کو یہ کہہ کر تو دیکھئے کہ آپ نے اگلے سال ناظرہ قرآن مجید پڑھانا ہے۔ وہ آپ کے چودہ طبق نہ روشن کردے تو کہئے گا۔ صرف وہی چودہ طبق روشن نہ کرے گا بلکہ شہر کی سطح پر تمام دینی اداروں میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گی کہ ایک بڑے شیخ الحدیث کی ناظرہ کلاس میں تشکیل کرکے اس کی توہین کردی گئی ہے۔ گویا خدمت قرآن مجید کا سب سے ابتدائی درجہ ایک شیخ الحدیث کے لئے توہین کا درجہ رکھتا ہے۔ نعوذ باللہ۔

حجۃ الاسلام ابو حامد الغزالی دو سال طوس میں ناظرہ قرآن مجید پڑھاتے رہے۔ اور پھر ایک روز اٹھے اور دوسری بار نظامیہ بغداد پہنچ گئے۔ ایک بار پھر ڈین بنے اور پورے اختیار کے ساتھ بنے۔ کچھ ہی عرصے میں اس ادارے کا پورا تعلیمی ڈھانچہ بدل کر رکھ دیا۔ لمبی تفصیلات کا موقع نہیں مگر آپ صرف ایک اصول سے اندازہ لگا لیجئے کہ اس اصول کے بنانے کی وجہ کیا رہی ہوگی اور اس کے پھر اثرات کیا مرتب ہوئے ہوں گے۔ وہ اصول یہ کہ تخصص کے درجات میں آگے بڑھنے کا معیار یہ نہیں ہوگا کہ طالب علم جو کلاس پڑھ چکا اس کی کتب کا فہم کتنا رکھتا ہے؟ بلکہ یہ ہوگا کہ طالب علم کا نوافل، ذکر و اذکار، اور تلاوت قرآن مجید میں اشتغال کس درجے کا ہے؟ یوں گویا امام غزالی نے درسگاہ اور خانقاہ کو یکجا کردیا۔

اور وجہ اس کی یہ تھی کہ امام غزالی صاف کہتے تھے کہ اللہ کا دین اب صرف ذہنی بن کر رہ گیا ہے، یہ وجودی نہیں رہا۔ یعنی اس دور کی دینی تعلیم کے نتیجے میں عالم دین ذہن میں تو دین رکھتا تھا کہ آپ اسے بیان کرنے کا کہئے تو علم کا سمندر بہادے مگر غزالی کے نزدیک اس کے عمل سے دین خارج ہوچکا تھا۔ اور یہ وہ لوگ تھے جو عمل کے معاملے میں آج کے اہل علم سے بدرجہا فائق تھے۔ سو امام غزالی نے ہدف ہی یہ مقرر کر رکھا تھا کہ ذہن میں موجود دین کو عمل میں لا کر دین کے عالم کو دینِ مجسم بنانا ہے کہ اس کی کوئی بھی حرکت عین حکم دین کا اظہار ہو۔

یوں جامعہ نظامیہ کا نظام بدلنے کے ساتھ ساتھ امام غزالی نے تہافتہ الفلاسفہ لکھی ۔ یہ 60 صفحات کا رسالہ اتنی طاقتور چیز ہے کہ آج کا ماڈرن مغرب رینے دیکارت اور ہیوم کے جس فلسفے پر کھڑا ہے اسے بنیاد ہی تہافۃ الفلاسفہ سے ملی ہے۔ تہافہ میں امام غزالی نے لکھا کہ یونانی فلسفہ 20 اصولوں پر کھڑا ہے۔ اور کمال دیکھئے کہ یونانی فلسفے کے یہ 20 اصول دریافت کرنے والا پہلا شخص ہی امام غزالی ہے۔ غزالی سے پیچھے سقراط تک چلے جایئے آپ کو یہ جملہ تک کہیں نہ ملے گا کہ یونانی فلسفے کے بیس اصول ہیں۔ پھر غزالی نے ان 20 اصولوں پر جرح کرتے ہوئے پہلے 3 اصولوں کو کفر بواح ثابت کیا ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ ان اصولوں کو اگر نکال دیا جائے تو یونانی فلسفہ اپنا وجود ہی باقی نہیں رکھ سکتا۔ لہٰذا اصلاح کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ نتیجہ یہ کہ عالم اسلام کا جو علمی ذوق ہی یونی فلسفے پر ایک عرصے سے استوار چلا آرہا تھا وہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ سنی مکتبہ فکر نے یونانی فلسفے کو کک آؤٹ کردیا اور اس کی جگہ علم کلام نے لے لی۔

تیسری چیز غزالی نے یہ کی کہ اس دور کے عالم اسلام کی روحانیت پر فاطمی تصورِ روحانیت غالب آتا چلا جا رہا تھا۔ چنانچہ احیاء علوم الدین لکھ کر غزالی نے اس کا بھی تدارک کر ڈالا۔ صرف تدارک ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے قلب سے اس کی ساری جڑیں اکھاڑ دیں۔ یوں جب فقط 51 برس کی عمر میں غزالی نے دنیا چھوڑی تو وہ علمی انقلاب رونما کرچکے تھے۔ مگر المیے کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی حلقے کو آج پھر اس صورتحال کا سامنا ہے کہ اس کا دین صرف ذہنی بن کر رہ گیا ہے۔ دین ایک بار پھر وجودی نہیں رہا۔ اس نظام تعلیم نے جس ہستی کو سب سے زیادہ نظر انداز کر رکھا ہے وہ کوئی اور نہیں خود اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات ہے۔ تعلق مع اللہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ یہ چندہ اسکیموں یا امامت و تدریس جیسی ملازمت کو دین کی خدمت سمجھ کر مطمئن بیٹھے ہیں۔ ذراآپ انہیں پیشکش تو کر دیکھئے کہ آپ نے ہماری مسجد میں امامت کرنی ہے جس کے یہ یہ اصول آپ پر لاگو ہوں گے۔ مگر آپ کو تنخواہ، گھر، مفت بجلی، گیس، پانی یا کوئی اور مراعات نہیں ملیں گے۔ جو وہ جواب میں فرمائیں گے اسی سے واضح ہوجائے گا کہ وہ دین کی خدمت کا کتنا شوق رکھتے ہیں۔

تعلق مع اللہ کوئی مذاق نہیں۔ یہ تو قائم ہی تب ہوتا ہے جب اللہ سبحانہ و تعالی کی درست پہچان میسر ہو۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ یہ حضرات اللہ سبحانہ و تعالی جیسے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والے رب کو بھی گویا نعوذ باللہ ایک سفاک اور دہشت انگیز ہستی کے طور پر پیش کرتے ہیں؟ جن کا تصور توحید ہی اس بات پر کھڑا ہو کہ اللہ کے اس لئے قریب آؤ کہ نہ آؤگے تو وہ تمہاری ایسی کی تیسی پھیر دے گا، وہ کیسے یہ دعوی کر سکتا ہے کہ دیندار ہے اور دینی کام سے جڑا ہے؟ یہ تو محلے کے بدمعاش کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ بھئی یا محلہ چھوڑ دو، یا اسے خوش رکھو ورنہ جینا حرام کردے گا۔ عجیب دینداری ہے جس میں اللہ کے لئے ہی وقت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ تعلق مع اللہ کا پتہ کیسے چلتا ہے کہ ہے یا نہیں ہے؟ تعلق مع اللہ کی واحد کسوٹی نفلی عبادات ہیں۔ ہمارے مذہبی طبقے کے نزدیک عبادات میں سے نفلی عبادات کمتر درجے کی عبادات ہیں۔ کیونکہ ان کے ساتھ ڈنڈا موجود نہیں۔ یعنی باز پرس نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی عبادت وہ واحد کسوٹی ہیں جو طے کرتی ہیں کہ کون اللہ کا یار ہے اور کون نہیں۔

کیا جنید بغدادی، حسن بصری یا شیخ عبدالقادر جیلانی فرض عبادات کے نتیجے میں مقام ولایت تک پہنچے تھے؟ ہمارے کتنے ائمہ مساجد ہیں جو اشراق تک مسجد میں نظر آتے ہیں ؟ کتنے ائمہ ہیں جو مسجد میں بیٹھے تلاوت کرتے نظر آتے ہیں؟ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہم گھر میں نفلی عبادات ادا کرتے ہیں تو پھر آپ کو وہ اصول پڑھ لینے چاہئیں جو امام ابویوسف نے ائمہ کے لئے لکھے ہیں۔

Related Posts